حدیث نمبر: 14627
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَ : نَشَدَ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - النَّاسَ فِي الرَّحْبَةِ : مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ . قَالَ : فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِيدٍ سِتَّةٌ ، وَمِنْ قِبَلِ زَيْدٍ سَبْعَةٌ ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لِعَلِيٍّ : " أَلَيْسَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ ؟ " . قَالُوا : بَلَى قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ أَتَمَّ مِنْهُ ، وَقَالَ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، لَا عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ كَمَا هُنَا ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّ الْوَاوَ سَقَطَتْ - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن وہب اور زید بن یثیع بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے رحبہ کے مقام پر لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کیا کہ جس شخص نے غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا ، وہ کھڑا ہو جائے ، راوی کہتے ہیں : سعید بن وہب والی طرف میں چھ افراد کھڑے ہوئے اور زید بن یثیع والی طرف میں سات افراد کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ ان لوگوں نے غدیر خم کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : کیا میں مومنین کے نزدیک زیادہ قریب نہیں ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! جس کا میں مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا ، اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، لیکن اس سے زیادہ مکمل طور پر اسے نقل کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ سعید بن وہب اور زید بن یثیع کے حوالے سے منقول ہے ، جس طرح یہاں مذکور ہے ، جبکہ عبداللہ کہتے ہیں : یہ سعید بن وہب کے حوالے سے زید بن یثیع سے منقول ہے ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس میں واؤ رہ گیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، ان دونوں روایات کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14627
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2541)»