حدیث نمبر: 14623
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : شَهِدْنَا الْمَوْسِمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَلَغْنَا مَكَانًا يُقَالُ لَهُ : غَدِيرُ خُمٍّ ، فَنَادَى : الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ، فَاجْتَمَعْنَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَطَنَا فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، بِمَ تَشْهَدُونَ " . قَالُوا : نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . قَالَ : " ثُمَّ مَهْ ؟ " . قَالُوا : وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ . قَالَ : " فَمَنْ وَلِيُّكُمْ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَانَا قَالَ : " مَنْ وَلِيُّكُمْ ؟ " . ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى عَضُدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَقَامَهُ ، فَنَزَعَ عَضُدُهُ فَأَخَذَ بِذِرَاعَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ يَكُنِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحَبَّهُ مِنَ النَّاسِ فَكُنْ لَهُ حَبِيبًا ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ فَكُنْ لَهُ مُبْغِضًا ، اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَجِدُ أَحَدًا أَسَتَوْدِعُهُ فِي الْأَرْضِ بَعْدَ الْعَبْدَيْنِ الصَّالِحَيْنِ غَيْرَكَ ; فَاقْضِ لَهُ بِالْحُسْنَى " . ¤ قَالَ بِشْرٌ : قُلْتُ : مَنْ هَذَيْنِ الْعَبْدَيْنِ الصَّالِحَيْنِ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حجۃ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم ایک جگہ پہنچے جسے غدیر خم کہا: جاتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ، یعنی ہم مہاجرین اور انصار اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم کس بات کی گواہی دیتے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور کس بات کی گواہی دیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس بات کی کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا ولی کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ہمارے مولیٰ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ولی کون ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بازو پر رکھا ، انہیں کھڑا کیا ، پھر ان کے بازو کو چھوڑا اور ان کی کلائی کو پکڑ لیا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” اللہ اور اس کا رسول جس کے مولیٰ ہوں ، تو یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ، اے اللہ ! لوگوں میں سے جو شخص اس سے محبت رکھے ، تو اس شخص کے لئے محبت کرنے والا ہو جانا ، اور جو شخص اس سے بغض رکھے ، تو اس کے لئے غصہ کرنے والا ہو جانا ، اے اللہ ! دو نیک لوگوں کے بعد مجھے تیرے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں ملتا ، زمین میں اس کو میں جس کے سپرد کروں ، تو اس کے بارے میں بھلائی کا فیصلہ دینا ۔ “ بشر نامی راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : وہ دو نیک بندے کون تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14623
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2505)»