حدیث نمبر: 14619
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " ؟ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا ، فَشَهِدُوا بِذَلِكَ ، وَكُنْتُ فِيمَنْ كَتَمَ فَذَهَبَ بَصَرِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ خَالِيًا مِنْ ذَهَابِ الْبَصَرِ وَالْكِتْمَانِ وَدُعَاءِ عَلِيٍّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کیا ، انہوں نے ہر اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیا ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہو : ” میں جس کا مولیٰ ہوں ، تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو بارہ بدری صحابہ کرام کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی ( سیدنا زید بن ارقم کہتے ہیں : ) میں ان افراد میں سے ایک تھا جس نے اس بات کو چھپایا تھا ، تو میری بینائی رخصت ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ معجم اوسط میں انہوں نے بینائی رخصت ہونے اور بات کو چھپانے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دعا کا تذکرہ نہیں کیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14619
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1987) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4996)»