مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّسَتُّرِ عِنْدَ الِاغْتِسَالِ وَالنَّهْيِ عَنِ الِاغْتِسَالِ بِالْفَضَاءِ . باب: غسل کرتے ہوئے پردہ کر لینا اور کھلی جگہ پر غسل کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1461
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَى عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَغْتَسِلُ يَصُبُّ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ : " أَتَغْتَسِلُونَ وَلَا تَسْتَتِرُونَ ؟ ! وَاللَّهِ إِنِّي لَأَخْشَى أَنْ تَكُونُوا خَلَفَ الشَّرِّ - يَعْنِي الْخَلَفَ الَّذِي يَكُونُ فِيهِمُ الشَّرُّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ ، اپنے والد کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم لوگ اکٹھے غسل کر رہے تھے ، اور ایک دوسرے پر پانی ڈال رہے تھے ، انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ پردہ کیے بغیر غسل کر رہے ہو ؟ اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم میرے بعد میں آنے والے برے لوگ ہو گے ، اُن کی مراد یہ تھی کہ ایسے بعد میں آنے والے لوگ ہو جن میں برائی پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔