حدیث نمبر: 1459
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَغْتَسِلُ ، فَأَخَذَ حِفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهِ وَجْهِي ، وَقَالَ : " وَرَاءَكِ أَيْ لَكَاعُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ اس وقت غسل کر رہے تھے ، آپ نے چلو میں پانی لے کر میرے چہرے پر مارا اور فرمایا : پیچھے چلے جاؤ اے لڑکی !
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم وسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔