مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ، وَوَفَاتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . 14536 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً : فَأَكَبَّ يُمْلِي عَلَيْهِ - ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ . ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " يَا ابْنَ حَوَالَةَ ، كَيْفَ نَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِيِّ بَقَرٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، [ قَالَ : وَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاخَةُ أَرْنَبٍ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللُّهُ لِي وَرَسُولُهُ ] . قَالَ : " اتَّبِعُوا هَذَا " . وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ ، فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ ، فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے کا بیان اور ان کی وفات کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً : فَأَكَبَّ يُمْلِي عَلَيْهِ - ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ . ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " يَا ابْنَ حَوَالَةَ ، كَيْفَ نَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِيِّ بَقَرٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، [ قَالَ : وَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاخَةُ أَرْنَبٍ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللُّهُ لِي وَرَسُولُهُ ] . قَالَ : " اتَّبِعُوا هَذَا " . وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ ، فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ ، فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت ایک درخت کے سائے میں موجود تھے ، آپ کے پاس ایک کاتب موجود تھا ، جس کو آپ املاء کروا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز نہ لکھواؤں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں پتہ ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ، وہی میرے لئے بہتر ہو گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا ، اسماعیل نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو املاء کروانے لگے ، پھر آپ نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز تحریر نہ کرواؤں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ، وہی ٹھیک ہو گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا اور آپ اپنے پاس لکھنے والے فرد کو املاء کرواتے رہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے جائزہ لیا تو اس تحریر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی تھا ، مجھے اندازہ ہو گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر صرف بھلائی کے حوالے سے ہی ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز نہ لکھواؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ! تم فتنوں کے زمانے میں کیا کرو گے کہ جب وہ زمین کے اطراف سے یوں نکلیں گے ، جس طرح گائے کے سینگ ہوتے ہیں ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ! اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے کہ جب پہلے والے کے بعد ایک اور فتنہ آئے گا ، اور وہ دوسرا فتنہ جو ہو گا ، اس کے مقابلے میں پہلا فتنہ یوں ہو گا جیسے کسی خرگوش نے چھلانگ لگائی ہو ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس شخص کی پیروی کرنا ، اس وقت وہاں سے ایک صاحب گزرے جنہوں نے چہرہ ڈھانپا ہوا تھا ، میں دوڑتا ہوا گیا ۔ میں نے ان صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ان کا چہرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرواتے ہوئے دریافت کیا : ان کے ساتھ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! تو وہ فرد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔