مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شادی کا بیان
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : رَفَعَ عُثْمَانُ صَوْتَهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ لَهُ : لِأَيِّ شَيْءٍ تَرْفَعُ صَوْتَكَ عَلَيَّ وَقَدْ شَهِدْتُ بَدْرًا وَلَمْ تَشْهَدْ ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ تُبَايِعْ ، وَفَرَرْتَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَفِرَّ . فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَمَّا قَوْلُكَ : إِنَّكَ شَهِدْتَ بَدْرًا وَلَمْ أَشْهَدْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَّفَنِي عَلَى ابْنَتِهِ ، وَضَرَبَ لِي بِسَهْمٍ ، وَأَعْطَانِي أَجْرِي . وَأَمَّا قَوْلُكَ : بَايَعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ أُبَايِعْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَنِي إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا احْتَبَسْتُ ضَرَبَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، فَقَالَ : " هَذِهِ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ " . فَشِمَالُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ يَمِينِي . وَأَمَّا قَوْلُكَ : فَرَرْتَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَفِرَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ : ( إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ) فَلِمَ تُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي هَذَا الْبَابِ وَغَيْرِهِ . ¤سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی آواز بلند کی ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کس وجہ سے اپنی آواز میرے سامنے بلند کر رہے ہیں ، جبکہ میں غزوہ بدر میں شریک ہوا ہوں اور آپ شریک نہیں ہوئے ہیں ، میں نے ( بیعت رضوان کے موقع پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور آپ نے بیعت نہیں کی اور آپ غزوہ احد کے دن فرار ہو گئے تھے اور میں فرار نہیں ہوا ۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ، اور میں شریک نہیں ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی صاحبزادی کی خاطر رکھنے کا حکم دیا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حصہ بھی دیا تھا اور مجھے میرا اجر بھی عطا کیا تھا ، جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ آپ نے بیعت کی ہے ، اور میں نے بیعت نہیں کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرکین کی طرف بھیجا تھا اور آپ یہ بات جانتے ہیں ، جب مجھے آنے میں تاخیر ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر ارشاد فرمایا : یہ عثمان بن عفان کے لئے ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بایاں ہاتھ میرے دائیں سے بہتر ہے ، جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ احد کے دن فرار ہو گیا تھا ، تو میں فرار نہیں ہوا تھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔ “ ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو آپ کسی ایسے گناہ کے حوالے سے مجھے عار نہیں دلا سکتے جس سے اللہ تعالیٰ نے درگزر کر لیا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اس کا ایک طریق اس باب میں اور اس کے علاوہ باب میں گزر چکا ہے ۔