مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ تَزْوِيجِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شادی کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى قَبْرِ ابْنَتِهِ الثَّانِيَةِ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : " أَلَا أَبَا أَيِّمٍ ؟ أَلَا أَخَا أَيِّمٍ يُزَوَّجُهَا عُثْمَانَ ؟ فَلَوْ كُنَّ عَشْرًا لَزَوَّجْتُهُنَّ عُثْمَانَ ، وَمَا زَوَّجْتُهُ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ السَّمَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دوسری صاحبزادی کی قبر کے پاس ٹھہرے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا کسی بیوہ یا طلاق یافتہ کا کوئی باپ یا بھائی نہیں ہے ، جو اس بیوہ کی شادی عثمان سے کروا دے ، اگر یہ ( یعنی میری بیٹیاں ) دس ہوتیں ، تو میں ( یکے بعد دیگرے ) عثمان کے ساتھ ان کی شادی کروا دیتا اور میں نے ( اپنی بیٹیوں کی ) اس کے ساتھ شادی صرف آسمان سے آنے والی وحی کی وجہ سے کروانی تھی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔