حدیث نمبر: 1450
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : كَانَتْ مُجَاوِرَةً أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّ زَوْجَهَا جَامَعَهَا فِي الْمَنَامِ ، أَتَغْتَسِلُ ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : تَرِبَتْ يَدَاكِ أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، وَإِنَّا أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّا أُشْكِلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَلْ أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ " . فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَأَنَّى يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ؟ هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ . ¤
محمد محی الدین

اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ ، اپنی دادی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پڑوس میں رہتی تھیں ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر کوئی عورت خواب میں یہ دیکھتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کر رہا ہے ، تو کیا وہ عورت غسل کرے گی ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے ام سلیم ! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ، تم نے اللہ کے رسول کے سامنے عورتوں کو شرمندہ کر دیا ہے ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا ہے ، ہمیں جس معاملے میں الجھن درپیش ہوتی ہے ، اُس کے بارے میں ، ہم اللہ کے رسول سے سوال کر لیں ، یہ اس سے بہتر ہے کہ ہم اُس کے حوالے سے اندھیرے میں رہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ام سلمہ ! بلکہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ، ایسی عورت پر غسل لازم ہو گا ، جب وہ پانی ( یعنی احتلام کا نشان ) پاتی ہے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا عورت کا بھی پانی ( یعنی احتلام کا مواد ) ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اُس ( عورت ) کا بچہ کس وجہ سے اُس سے مشابہت رکھتا ہے ؟ یہ عورتیں بھی مردوں کی طرح ہوتی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اسحاق نامی راوی نے سیدہ ام سلیم سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف