حدیث نمبر: 145
عَنْ زَيْدٍ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ مَوْلًى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بَخٍ بَخٍ ، لِخَمْسٍ ، مَا أَثْقَلَهُنَّ فِي الْمِيزَانِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَالْوَلَدُ الصَّالِحُ يُتَوَفَّى فَيَحْتَسِبُهُ وَالِدُهُ " . وَقَالَ : " بَخٍ بَخٍ ، لِخَمْسٍ ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ مُسْتَيْقِنًا بِهِنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ : يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْحِسَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

زید ابوسلام نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ چیزوں کے کیا کہنے ؟ وہ میزان میں کتنی وزنی ہیں ؟ لا الہ الا اللہ پڑھنا ، اللہ اکبر پڑھنا ، سبحان اللہ پڑھنا ، الحمد اللہ پڑھنا ، اور وہ نیک اولاد ( جو بچپن میں ) انتقال کر جائے اور اُن کا والد اس پر ثواب کی امید رکھے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ” پانچ چیزوں کے کیا کہنے ؟ جو شخص ان پر یقین رکھنے کے ہمراہ ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، ( یعنی ایسا شخص کہ جو ) اللہ تعالیٰ ، آخرت کے دن ، جنت ، جہنم ، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حساب پر ایمان رکھتا ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 145
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 48»