مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ وَفَاةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَكَانَ يَصْنَعُ الْأَرْحَاءَ ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ يَسْتَغِلُّهُ كُلَّ يَوْمٍ أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَثْقَلَ عَلَيَّ غَلَّتِي ، فَكَلِّمْهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنِّي ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اتَّقِ اللَّهَ وَأَحْسِنْ إِلَى مَوْلَاكَ ، وَمِنْ نِيَّةِ عُمَرَ أَنْ يَلْقَى الْمُغِيرَةَ فَيُكَلِّمَهُ فَيُخَفِّفَ . فَغَضِبَ الْعَبْدُ وَقَالَ : وَسِعَ النَّاسَ كُلَّهُمْ عَدْلُهُ غَيْرِي ، فَأَضْمَرَ عَلَى قَتْلِهِ ، فَاصْطَنَعَ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ وَشَحَذَهُ وَسَمَّهُ ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْهُرْمُزَانَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَرَى هَذَا ؟ قَالَ : أَرَى أَنَّكَ لَا تَضْرِبُ بِهِ أَحَدًا إِلَّا قَتَلْتَهُ قَالَ : فَتَحَيَّنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فَجَاءَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى قَامَ وَرَاءَ عُمَرَ ، وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَكَلَّمَ يَقُولُ : أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ كَمَا كَانَ يَقُولُ قَالَ : فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فِي كَتِفِهِ وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ ، فَسَقَطَ عُمَرُ وَطَعَنَ بِخِنْجَرِهِ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَهَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ وَفَرَقَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ ، وَجَعَلَ [ عُمَرُ ] يَذْهَبُ [ بِهِ ] إِلَى مَنْزِلِهِ ، وَضَاجَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتْ تَطْلُعُ الشَّمْسُ ، فَنَادَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، الصَّلَاةَ ، الصَّلَاةَ ، الصَّلَاةَ . قَالَ : وَفَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ، وَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَصَلَّى بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ تَوَجَّهُوا [ إِلَى عُمَرَ ] ، فَدَعَا بِشَرَابٍ لِيَنْظُرَ مَا قَدْرُ جُرْحِهِ ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ . فَلَمْ يَدْرِ أَنَبِيذٌ هُوَ أَمْ دَمٌ ، فَدَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ ، فَقَالُوا : لَا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : إِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسِي فَقَدْ قُتِلْتُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ ، يَقُولُونَ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ; كُنْتَ وَكُنْتَ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ آخَرُونَ فَيُثْنُونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي ، وَإِنَّ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ قَدْ ] سَلِمَتْ لِي . فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ [ وَكَانَ عِنْدَ رَأْسِهِ _ وَكَانَ خَلِيطُهُ كَأَنَّهُ مِنْ أَهْلِهِ ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَتَكَلَّمَ _ عَبْدُ اللَّهِ بنُ عَبَّاسٍ ] فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا تَخْرُجُ مِنْهَا كَفَافًا ، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَحِبْتَهُ خَيْرَ مَا صَحِبَهُ صَاحِبٌ كُنْتَ لَهُ ، وَكُنْتَ لَهُ ، وَكُنْتَ لَهُ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ، ثُمَّ صَحِبْتَ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ وُلِّيتَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتَ ، فَوُلِّيتَهَا بِخَيْرِ مَا وَلِيَهَا وَالٍ ، كُنْتَ تَفْعَلُ وَكُنْتَ تَفْعَلُ ، فَكَانَ عُمَرُ يَسْتَرِيحُ إِلَى حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ كَرِّرْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ . فَقَالَ عُمَرُ : أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا يَقُولُونَ ، لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ بِهِ الْيَوْمَ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ ، قَدْ جَعَلْتُهَا شُورَى فِي سِتَّةٍ : عُثْمَانَ ، وَعَلِيٍّ ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَجَعَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَعَهُمْ مُشِيرًا [ وَلَيْسَ مِنْهُمْ ] ، وَأَجَّلَهُمْ ثَلَاثًا ، وَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ . . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ابولؤلؤ تھا ، وہ چکی بنایا کرتا تھا ، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم وصول کرتے تھے ، ایک مرتبہ ابولؤلؤ کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین ! سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بوجھ ڈالا ہوا ہے ، وہ مجھ سے زیادہ وصولی کرتے ہیں ، آپ ان سے بات چیت کریں کہ وہ میرے خراج میں کمی کر دیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اپنے آقا کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نیت یہ تھی کہ وہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے ملیں گے ، تو وہ ان کے ساتھ بات چیت کریں گے کہ وہ اس کے خراج میں تخفیف کر دیں ، لیکن وہ غلام غصے میں آ گیا ، اس نے کہا: ان کا عدل میرے علاوہ باقی سب لوگوں کے لئے ہے ، اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا منصوبہ بنا لیا ، اس نے ایک خنجر تیار کیا ، جس کے دو سرے تھے اور اسے زہر میں ڈبویا ، پھر وہ اسے لے کے ہرمزان کے پاس آیا اور دریافت کیا : اس خنجر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم اس کے ذریعے جس کو بھی ضرب لگاؤ گے ، اسے مار دو گے ، راوی کہتے ہیں : اس وقت ابولؤلؤ نے منصوبہ بنایا ۔ وہ صبح کی نماز میں آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، جب نماز کھڑی ہو جاتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہتے تھے صفیں قائم کر لو ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر وار کیا ، پھر اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو پر وار کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر گئے ، اس شخص نے اس خنجر کے ذریعے تیرہ افراد کو زخمی کیا ، جن میں سے سات افراد انتقال کر گئے اور کچھ لوگ بچ گئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر لایا گیا ۔ لوگوں نے رونا شروع کر دیا ، قریب تھا کہ سورج طلوع ہو جاتا ، اسی دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے لوگو نماز نماز نماز ، تو لوگ پریشان ہو کر نماز کی طرف گئے ، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، انہوں نے قرآن کی دو چھوٹی سورتوں کو پڑھ کر نماز پڑھائی ، جب نماز مکمل ہوئی ، تو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے مشروب منگوایا تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ان کے زخم کی مقدار کتنی ہے ، تو نبیذ لائی گئی ، انہوں نے اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گئی ، لیکن یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ نبیذ ہے یا خون ہے ، تو انہوں نے دودھ منگوایا ، اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گیا ، لوگوں نے کہا: امیر المؤمنین ! آپ کو کچھ نہیں ہو گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر قتل ہونا پریشانی کی بات ہے ، تو میں قتل ہو گیا ہوں ، لوگوں نے ان کی تعریف بیان کرنا شروع کی اور یہ کہا: امیر المؤمنین ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے آپ یہ تھے اور وہ تھے ، پھر لوگ واپس چلے جاتے اور دوسرے لوگ آ جاتے ، اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ جو کہہ رہے ہو ، اس کے باوجود اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ میں اس معاملے میں برابری کی بنیاد پر چھوٹ جاؤں ، نہ میرے ذے کچھ ہو اور نہ مجھے کچھ ملے ، اللہ کے رسول کا ساتھی ہونا میرے لئے باقی رہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سرہانے موجود تھے ۔ انہوں نے بات چیت شروع کی ، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اتنے قریبی تھے جیسے ان کے گھر کے فرد ہوں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قرآن کے عالم تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو شروع کی اور یہ کہا: اللہ کی قسم ! آپ اس معاملے سے برابری کی بنیاد پر نہیں نکلیں گے ، کیونکہ آپ اللہ کے رسول کے ساتھ رہے ہیں ، اور اس سب سے بہتر طریقے کے ہمراہ ساتھ رہے ہیں کہ جس طریقے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی بھی صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا ہو ، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح رہے ہیں ، اس طرح رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی تھے ، پھر آپ اللہ کے رسول کے خلیفہ کے ساتھ رہے ، پھر امیر المؤمنین آپ کو نگران بنایا گیا ، تو اللہ کی قسم ! آپ نے اس سب سے بہتر طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دیئے ، جس طریقے سے کوئی بھی شخص انہیں انجام دے سکتا ہے ، آپ نے یہ کام کیا اور وہ کام کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گفتگو سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کچھ اطمینان ہوا ، انہوں نے فرمایا : اے ابن عباس ! تم اپنی بات میرے سامنے دہراؤ ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے بات دہرائی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں ، اس کے باوجود اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ اگر میرے پاس روئے زمین جتنا سونا ہوتا ، تو قیامت کی ہولناکی سے بچنے کے لئے وہ میں آج فدیے کے طور پر دے دیتا ، میں حکومت کا معاملہ چھ افراد کی شوریٰ کے درمیان رکھتا ہوں ، عثمان ، علی ، طلحہ بن عبیداللہ ، زبیر بن عوام ، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں کے ساتھ مشیر مقرر کیا ، وہ ان میں سے ایک فرد نہیں تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں تین دن کی مہلت دی اور سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اس دوران لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔