مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ أَمَانِ النَّاسِ مِنَ الْفِتَنِ فِي حَيَاتِهِ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں لوگوں کا فتنوں سے محفوظ ہونا
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّهُ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَغَمَزَهَا ، وَكَانَ عُمَرُ رَجُلًا شَدِيدًا ، فَقَالَ : أَرْسِلْ يَدِي يَا قُفْلَ الْفِتْنَةِ ، فَقَالَ عُمَرُ : وَمَا قُفْلُ الْفِتْنَةِ ؟ قَالَ : جِئْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ وَقَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ ، فَجَلَسْتَ فِي آخِرِهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُصِيبُكُمْ فِتْنَةٌ مَا دَامَ هَذَا فِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ ، وَلَكِنَّ الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ فِيمَا أَظُنُّ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، ایک مرتبہ ان کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے دبایا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک مضبوط جسم کے شخص تھے ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ میرا ہاتھ چھوڑ دیں ، اے وہ فرد جو فتنے کے لئے قفل کی حیثیت رکھتے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : فتنے کے لئے قفل کی حیثیت رکھنے سے مراد کیا ہے ؟ تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا : ایک دن آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لا رہے تھے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف فرما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد لوگ بھی موجود تھے ، تو آپ پیچھے ہٹ کے بیٹھ گئے ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : جب تک یہ شخص تمہارے درمیان موجود رہے گا ، فتنہ تم تک نہیں پہنچ پائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سری بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ، البتہ یہ پہلو بھی ہے کہ حسن بصری نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے میرے خیال میں سماع نہیں کیا ہے ۔