حدیث نمبر: 14451
عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَدْرَكَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ ، وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَعُثْمَانُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، عَلَى ثَنِيَّةِ الْأُثَايَةِ مِنَ الْعَرْجِ ، فَقَطَعَتْ رَاحِلَتُهُ رَاحِلَةَ عُثْمَانَ ، وَقَدْ مَضَتْ رَاحِلَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَامَ الرَّكْبِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ : أَوْجَعْتَنِي يَا غَلْقَ الْفِتْنَةِ ، فَلَمَّا اسْتَسْهَلَتِ الرَّوَاحِلُ دَنَا مِنْهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَا السَّائِبِ ، مَا هَذَا الِاسْمُ الَّذِي سَمَّيْتَنِيهِ ؟ فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا سَمَّيْتُكَهُ ، سَمَّاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذَا هُوَ أَمَامَ الرَّكْبِ يَقْدُمُ الْقَوْمَ ، مَرَرْتُ يَوْمًا وَنَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هَذَا غَلْقُ الْفِتْنَةِ " . وَأَشَارَ بِيَدِهِ " لَا يَزَالُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْفِتْنَةِ بَابٌ شَدِيدُ الْغَلْقِ مَا عَاشَ هَذَا بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَيَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ اپنی سواری پر سوار تھے اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار تھے ، یہ عرج کے مقام پر موجود ” اثایہ “ نامی گھاٹی کی بات ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سواری نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی سواری کو جب پار کیا ( تو انہیں جھٹکا لگا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری آگے جا چکی تھی ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فتنے کے دروازے کو بند کرنے والے فرد تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ، جب سواریاں ہموار جگہ پر آ گئیں ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : ابوسائب اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، آپ نے مجھے جس نام سے پکارا تھا اس کی وجہ تسمیہ کیا ہے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو یہ نام نہیں دیا ، بلکہ یہ نام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تجویز کیا ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے والے لوگوں میں باقی لوگوں سے آگے چل رہے ہیں ، ایک دن آپ گزرے ، ہم اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ فتنوں کے لئے بندش ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ( اور پھر مزید یہ فرمایا تھا : ) تم لوگوں کے درمیان اور فتنے کے درمیان ایک ایسا دروازہ ہو گا جو مضبوطی سے بند رہے گا ، جب تک یہ شخص تمہارے درمیان زندہ رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، جو ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14451
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8321)»