حدیث نمبر: 1445
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ الْمَرْأَةَ فَلَا يُمَنِي . قَالَ : أَمَّا أَنَا فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنَ الْمَرْأَةِ اغْتَسَلْتُ . قَالَ : سُفْيَانُ وَالْجَمَاعَةُ عَلَى الْغُسْلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا ، جو عورت کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا ، تو انہوں نے فرمایا : مجھے جب اپنی اہلیہ کے ساتھ اس طرح کی صورتحال درپیش ہوتی ہے ، تو میں غسل کر لیتا ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سفیان اور اہل علم کی ایک جماعت غسل ( لازم ہونے ) کی قائل ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1445
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔