مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ خَوْفِهِ عَلَى نَفْسِهِ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی ذات کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہونا
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا أُمَّهْ ، قَدْ خِفْتُ أَنْ يُهْلِكَنِي مَالِي ، أَنَا أَكْثَرُ قُرَيْشٍ مَالًا قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، فَانْفِقْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي مَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أُفَارِقَهُ " . فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَلَقِيَ عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا عُمَرُ فَقَالَ : بِاللَّهِ ، مِنْهُمْ أَنَا ؟ فَقَالَتْ : لَا . وَلَا أُبَرِّئُ أَحَدًا بَعْدَكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور بولے : اے امی جان ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرا مال مجھے ہلاکت کا شکار کر دے گا ، کیونکہ قریش میں سے سب سے زیادہ مال میرے پاس ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم اس کو خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرے ساتھیوں میں سے ایک ایسا شخص بھی ہو گا کہ جب میں اس سے جدا ہو جاؤں گا ، تو پھر اس کے بعد وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گا ۔ “ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ وہاں سے تشریف لے گئے ۔ ان کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہ بات بتائی جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور بولے : میں اللہ کی قسم ! دے کر یہ پوچھتا ہوں کہ کیا میں ان افراد میں سے ایک ہوؤں گا ؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی نہیں ! البتہ میں آپ کے بعد کسی کو بری قرار نہیں دوں گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔