حدیث نمبر: 14439
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَمَنْ أَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَإِنَّ اللَّهَ بَاهَى بِالنَّاسِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَامَّةً ، وَبَاهَى بِعُمَرَ خَاصَّةً . وَإِنَّهُ لَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ فِي أُمَّتِهِ مُحَدَّثٌ ، وَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ مُحَدَّثٌ ؟ قَالَ : " تَتَكَلَّمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى لِسَانِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ خَادِمُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عمر کو غصہ دلائے گا ، وہ مجھے غضبناک کرے گا ، جو شخص عمر سے محبت کرے گا ، وہ مجھ سے محبت کرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے عرفہ کی شام سب لوگوں پر عمومی طور پر فخر کا اظہار کیا ہے ، اور عمر پر بطور خاص فخر کا اظہار کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ، اس نبی کی امت میں کوئی محدث ہوتا ہے ، اگر ایسا کوئی فرد میری امت میں ہوتا تو وہ عمر ہوتا ۔ “ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! محدث کیسا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے اس کی زبان پر کلام کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد ہے ، جو حسن بصری کا خادم تھا ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14439
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف