مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عِلْمِهِ . باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي أُعْطِيتُ عُسًّا مَمْلُوءًا لَبَنًا ، فَشَرِبْتُ حَتَّى تَمَلَّأْتُ ، حَتَّى رَأَيْتُهُ يَجْرِي فِي عُرُوقِي بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَعْطَيْتُهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " . فَأَوَّلُوهَا قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا عِلْمٌ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ فَمَلَأَكَ مِنْهُ ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَعْطَيْتَهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ . فَقَالَ : " أَصَبْتُمْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک بڑا پیالہ دیا گیا جو دودھ سے بھرا ہوا تھا ، میں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ میں سیر ہو گیا ، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے اثرات مجھے اپنی جلد اور گوشت کے درمیان رگوں کے اندر چلتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں ، جو دودھ بچا تھا ، وہ میں نے عمر بن خطاب کو دے دیا ، تم لوگ اس کی تاویل بیان کرو ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس سے مراد وہ علم ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا اور آپ اس سے سیر ہو گئے اور اس میں سے کچھ بچ گیا ، تو آپ نے وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک بیان کیا ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں یہ روایت اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔