حدیث نمبر: 14371
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : إِنَّ فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ قَصْرًا لَهُ خَمْسُمِائَةُ بَابٍ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافٍ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا نَبِيٌّ . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : هَنِيئًا لَكَ يَا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ ، ثُمَّ قَالَ : أَوْ صَدِيقٌ . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى قَبْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ . ثُمَّ قَالَ : أَوْ شَهِيدٌ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى نَفْسِهِ فَقَالَ : وَأَنَّى لَكَ الشَّهَادَةُ يَا عُمَرُ ؟ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الَّذِي أَخْرَجَنِي مِنْ مَكَّةَ إِلَى هِجْرَةِ الْمَدِينَةِ قَادِرٌ أَنْ يَسُوقَ إِلَيَّ الشَّهَادَةَ . قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : فَسَاقَهَا اللَّهُ إِلَيْهِ عَلَى يَدِ شَرِّ خَلْقِهِ : عَبْدٍ مَمْلُوكٍ لِلْمُغِيرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ شَرِيكٍ النَّخَعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اپنے خطبے کے دوران یہ ارشاد فرمایا : ” بے شک جنات عدن میں ایسا مل ہے کہ جس کے پانچ سو دروازے ہوں گے ، اور ہر ایک دروازے پر پانچ ہزار حورعین ہوں گی ، اس محل میں صرف نبی داخل ہو سکیں گے ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے اس قبر والی ہستی ! آپ کو مبارک باد ہو ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا کوئی صدیق داخل ہو گا پھر وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قبر کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کو مبارک باد ہو ، پھر انہوں نے کہا: یا کوئی شہید داخل ہو گا ، پھر انہوں نے اپنی طرف رخ کیا اور بولے : اے عمر تمہیں کہاں شہادت نصیب ہو گی ۔ پھر انہوں نے یہ کہا: جس ذات نے مجھے مکہ سے نکال کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کروائی تھی ، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ شہادت کو مجھ تک لے آئے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے ایک بدترین شخص کے ہاتھ کے ذریعے ان کو شہادت نصیب کی ، وہ شخص سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریک نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14371
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن