مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ النَّاسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى مِنْبَرِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ : إِنَّ فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ قَصْرًا لَهُ خَمْسُمِائَةُ بَابٍ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ خَمْسَةُ آلَافٍ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا نَبِيٌّ . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : هَنِيئًا لَكَ يَا صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ ، ثُمَّ قَالَ : أَوْ صَدِيقٌ . ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى قَبْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : هَنِيئًا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ . ثُمَّ قَالَ : أَوْ شَهِيدٌ . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى نَفْسِهِ فَقَالَ : وَأَنَّى لَكَ الشَّهَادَةُ يَا عُمَرُ ؟ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ الَّذِي أَخْرَجَنِي مِنْ مَكَّةَ إِلَى هِجْرَةِ الْمَدِينَةِ قَادِرٌ أَنْ يَسُوقَ إِلَيَّ الشَّهَادَةَ . قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : فَسَاقَهَا اللَّهُ إِلَيْهِ عَلَى يَدِ شَرِّ خَلْقِهِ : عَبْدٍ مَمْلُوكٍ لِلْمُغِيرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ شَرِيكٍ النَّخَعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے اپنے خطبے کے دوران یہ ارشاد فرمایا : ” بے شک جنات عدن میں ایسا مل ہے کہ جس کے پانچ سو دروازے ہوں گے ، اور ہر ایک دروازے پر پانچ ہزار حورعین ہوں گی ، اس محل میں صرف نبی داخل ہو سکیں گے ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے اس قبر والی ہستی ! آپ کو مبارک باد ہو ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا کوئی صدیق داخل ہو گا پھر وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قبر کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کو مبارک باد ہو ، پھر انہوں نے کہا: یا کوئی شہید داخل ہو گا ، پھر انہوں نے اپنی طرف رخ کیا اور بولے : اے عمر تمہیں کہاں شہادت نصیب ہو گی ۔ پھر انہوں نے یہ کہا: جس ذات نے مجھے مکہ سے نکال کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کروائی تھی ، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ وہ شہادت کو مجھ تک لے آئے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے ایک بدترین شخص کے ہاتھ کے ذریعے ان کو شہادت نصیب کی ، وہ شخص سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف شریک نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔