مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا وَرَدَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الْخُلَفَاءِ ، وَغَيْرِهِمْ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے علاوہ دیگر خلفاء اور دیگر لوگوں کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ فِي بَيْتِهِ ، فَقُلْتُ : يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَهْلًا ! وَيْحَكَ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ ! أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . وَيْحَكَ يَا أَبَا جُحَيْفَةَ ! لَا يَجْتَمِعُ حُبِّي وَبُغْضُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فِي قَلْبِ مُؤْمِنٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آپ کے گھر میں حاضر ہوا ، میں نے کہا: اے اللہ ! کے رسول کے بعد سب سے بہتر فرد ! تو انہوں نے فرمایا : اے ابوجحیفہ ! رک جاؤ ، تمہارا ستیاناس ہو ، کیا میں تمہیں اللہ کے رسول کے بعد سب سے بہتر افراد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما ہیں ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے ابوجحیفہ ! تمہارا ستیاناس ہو ، میری محبت اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بغض کسی مومن کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔