حدیث نمبر: 14331
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ لَا يَبْقَى فِي الْجَنَّةِ أَهْلُ دَارٍ وَلَا غُرْفَةٍ إِلَّا قَالُوا : مَرْحَبًا مَرْحَبًا ، إِلَيْنَا إِلَيْنَا " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا ثَوَابُ هَذَا الرَّجُلِ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجَلْ أَنْتَ هُوَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي بَكْرٍ السَّالِمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک شخص جنت میں داخل ہو گا ، تو جنت میں موجود ہر گھر اور ہر بالاخانے کے سب لوگ یہ کہیں گے خوش آمدید ، خوش آمدید ، ہماری طرف آئیں ، ہماری طرف آئیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کیا سمجھتے ہیں ۔ وہ شخص آج بھی موجود ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں اے ابوبکر ! وہ تم ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف أحمد بن ابوبکر سالمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (485) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11166)»