مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ . باب: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضائل کا مجموعہ
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَرَادَ أَنْ يُسَرِّحَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَاسْتَشَارَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَاسْتَشَارَهُمْ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَوْلَا أَنَّكَ اسْتَشَرْتَنَا مَا تَكَلَّمْنَا ، فَقَالَ : " إِنِّي فِيمَا لَمْ يُوحَ إِلَيَّ كَأَحَدِكُمْ " . قَالَ : فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْيِهِ ، فَقَالَ : " مَا تَرَى يَا مُعَاذُ ؟ " . فَقُلْتُ : أَرَى مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ يَكْرَهُ فَوْقَ سَمَائِهِ أَنْ يُخْطِئَ أَبُو بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو الْعَطُوفِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ لیا ، جن میں سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان ، سیدنا علی ، سیدنا زبیر اور سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہم شامل تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے مشورہ لیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے ہم سے مشورہ نہ لیا ہوتا تو ہم نے اس بارے میں بات چیت نہیں کرنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جن معاملات میں میری طرف وحی نہیں کی جاتی ، میں ان میں تمہاری طرح کا ایک فرد ہوں ، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، ہر انسان نے اپنی رائے بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے معاذ ! تم کیا سمجھتے ہو ، میں نے عرض کی : میں یہ سمجھتا ہوں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہے ، وہی ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ آسمان کے اوپر اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ ابوبکر غلطی کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابوعطوف نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔