وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ مِنْ آبَارٍ شَتَّى ; حَتَّى أَخْرُجَ إِلَى النَّاسِ فَأَعْهَدَ إِلَيْهِمْ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ عَاصِبًا رَأْسَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ " . فَلَمْ يُلَقَّنْهَا إِلَّا أَبُو بَكْرٍ ، فَبَكَى . فَقَالَ : نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا ، وَأُمَّهَاتِنَا ، وَأَبْنَائِنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى رَسْلِكَ ، أَفْضَلُ النَّاسِ عِنْدِي فِي الصُّحْبَةِ وَذَاتِ الْيَدِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ ، انْظُرُوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ الشَّوَارِعَ فِي الْمَسْجِدِ فَسُدُّوهَا ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ بَابِ أَبِي بَكْرٍ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ نُورًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ : وَذَكَرَ قَتْلَى أُحُدٍ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ فَأَكْثَرَ . وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ مجھ پر مختلف کنووں سے آیا ہوا پانی بہاؤ تاکہ میں نکل کر لوگوں کے پاس جاؤں اور انہیں تلقین کروں ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نکلے تو آپ نے اپنے سر مبارک پر پٹی باندھی ہوئی تھی ، آپ منبر پر چڑھے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندے کو دنیا اور اللہ تعالیٰ کے پاس موجود چیز کے درمیان اختیار دیا گیا ، تو اس نے اس چیز کو اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی سمجھ صرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آئی اور وہ رونے لگ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : ہم اپنے آباؤ اجداد اور اپنی ماؤں اور بیٹوں کو آپ پر فدا کر دیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی جگہ رہو ، میرے نزدیک ساتھ کے اعتبار سے اور اچھا سلوک کرنے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت ابوقحافہ کا بیٹا رکھتا ہے ، تم ان دروازوں کا جائزہ لو جو مسجد میں آتے ہیں ، تو ابوبکر کی آمد کے مخصوص دروازے کے علاوہ باقی سب کو بند کر دو ، کیونکہ میں نے اس پر نور دیکھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کا ذکر کرتے ہوئے ان کے لئے بکثرت دعائے رحمت کی ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔