وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا رَأَتْ رَجُلًا مَارًّا وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا ، فَقِيلَ لَهَا : صِفِي لَنَا أَبَا بَكْرٍ . فَقَالَتْ : كَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ نَحِيفًا ، خَفِيفَ الْعَارِضَيْنِ ، أَحْنًا لَا تَسْتَمْسِكُ إِزْرَتُهُ تَسْتَرْخِي عَنْ حِقْوَيْهِ ، مَعْرُوقَ الْوَجْهِ ، غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ ، نَاتِئَ الْجَبْهَةِ ، عَارِيَ الْأَشَاجِعِ . هَذِهِ صِفَتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْخِضَابِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے ہودج میں موجود تھیں ، انہوں نے ایک شخص کو گزرتے ہوئے دیکھا ، تو یہ فرمایا : میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ، جو اس شخص سے زیادہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشابہت رکھتا ہو ، ان سے کہا: گیا : آپ ہمارے سامنے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حلیہ بیان کریں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ سفید رنگت کے مالک کمزور جسم والے ہلکے رخساروں والے ایک شخص تھے ، ان کا تہبند ایک جگہ پر ٹکتا نہیں تھا ، بلکہ ان کے پہلو سے ڈھلک جاتا تھا ، ان کے چہرے پر گوشت کم تھا ، آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی تھیں ، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور انگلیوں کے جوڑوں پر گوشت کم تھا ، یہ ان کا حلیہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے خضاب لگانے سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔