حدیث نمبر: 14280
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : قَالَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَرْثِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ¤ لَهْفَ نَفْسِي وَبِتُّ كَالْمَسْلُوبِ أَرْقُبُ اللَّيْلَ فِعْلَةَ الْمَحْرُوبِ مِنْ هُمُومٍ وَحَسْرَةٍ أَرَّقَتْنِي ¤ لَيْتَ أَنِّي سُقِيتُهَا بِشَعُوبِ حِينَ قَالُوا إِنَّ الرَّسُولَ قَدْ أَمْسَى ¤ وَافَقَتْهُ مَنِيَّةُ الْمَكْتُوبِ حِينَ جِئْنَا لِآلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ ¤ فَأَشَابَ الْقَذَالَ مِنِّي مَشِيبُ حِيَنَ رَيْنَا بِيُوتَهُ مُوحِشَاتٍ ¤ لَيْسَ فِيهِنَّ بَعْدُ عَيْشُ غَرِيبِ فَعَرَانِي لِذَاكَ حُزْنٌ طَوِيلٌ ¤ خَالَطَ الْقَلْبَ فَهْوَ كَالْمَرْعُوبِ . ¤ وَقَالَتْ أَيْضًا : ¤ أَلَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتَ رَخَاءَنَا وَكُنْتَ بِنَا بَرًّا وَلَمْ تَكُ جَافِيَا ¤ وَكَانَ بِنَا بَرًّا رَحِيمًا نَبِيُّنَا لِيَبْكِ عَلَيْكَ الْيَوْمَ مَنْ كَانَ بَاكِيَا ¤ لَعَمْرِي مَا أَبْكِي النَّبِيَّ لِمَوْتِهِ وَلَكِنْ لِهَرْجٍ كَانَ بَعْدَكَ آتِيَا ¤ كَأَنَّ عَلَى قَلْبِي لِفَقْدِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ حُبِّهِ مِنْ بَعْدِ ذَاكَ الْمَكَاوِيَا ¤ أَفَاطِمُ صَلَّى اللَّهُ رَبُّ مُحَمَّدٍ عَلَى جَدَثٍ أَمْسَى بِيَثْرِبَ ثَاوِيَا ¤ أَرَى حَسَنًا أَيْتَمْتَهُ وَتَرَكْتَهُ يَبْكِي وَيَدْعُو جَدَّهُ الْيَوْمَ نَائِيَا ¤ فِدًى لِرَسُولِ اللَّهِ أُمِّي وَخَالَتِي وَعَمِّي وَنَفْسِي قَصْرُهُ وَعِيَالِيَا ¤ صَبَرْتَ وَبَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ صَادِقًا وَمِتَّ صَلِيبَ الدِّينِ أَبْلَجَ صَافِيَا ¤ فَلَوْ أَنَّ رَبَّ الْعَرْشِ أَبْقَاكَ بَيْنَنَا سَعِدْنَا وَلَكِنْ أَمْرُهُ كَانَ مَاضِيَا ¤ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ السَّلَامُ تَحِيَّةً وَأُدْخِلْتَ جَنَّاتٍ مِنَ الْعَدْنِ رَاضِيَا ¤ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی جان ) سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعار کہے ہیں : ” میری جان غمگین ہے ، اور میں نے یوں رات گزاری ہے ، جیسے کسی کی کوئی چیز چھین لی گئی ہو ، میں رات بھر جاگتی رہی ہوں ، جیسے وہ شخص کام کرتا ہے ، جو جنگ کا شکار ہوا ہو ، پریشانیوں اور حسرت کی وجہ سے میری حالت خراب ہو گئی ، افسوس کہ مجھے یہ پریشانیاں اس وقت ملی ہیں ، جب موت کی اطلاع ملی ، جب لوگوں نے یہ کہا: کل شام تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق موت ، رسول تک آ گئی ، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس آئے ، تو سر کے پچھلے حصے کے بال بھی سفید ہو چکے تھے ، جب ہم نے ان کے گھروں کو دیکھا کہ ان میں وحشت ہے ، اور ان کے بعد ان گھروں میں ایسی زندگی ہے ، جو نامانوس ہے ، تو اس وجہ سے مجھے طویل غم درپیش ہو گیا ، جو دل کے ساتھ یوں گھل مل گیا ، جیسے وہ مرغوب کی مانند ہو “ انہوں نے یہ بھی کہا: ” یا رسول اللہ ! آپ ہماری سہولت تھے اور آپ ہم پر مہربانی کرنے والے تھے ، اور آپ پہلو تہی کرنے والے نہیں تھے ، ہمارے نبی ہم پر مہربان تھے ، رحم کرنے والے تھے ، تو آج کے دن ہر رونے والے کو آپ پر رونا چاہیے ، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، میں نبی کی موت پر نہیں رو رہی ہوں ، بلکہ اس پریشانی پر رو رہی ہوں ، جو آپ کے بعد آئے گی ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر موجودگی پر میرا دل یوں ہے کہ ان کی محبت کی وجہ سے وہ داغ لگانے والا گرم آلہ بن گیا ہے ، اے فاطمہ ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار ، اللہ تعالیٰ ، ان پر درود نازل کرے ، جنہوں نے یثرب میں ( آخری ) ٹھکانہ بنا لیا ہے ، میں نے حسن کو دیکھا ہے کہ آپ نے اسے یتیم کر کے چھوڑا ہے ، اور وہ رو رہا ہے ، اور اپنے نانا کو بلا رہا ہے ، میری ماں ، میری خالہ ، میری پھوپھی اور میں ، اللہ کے رسول پر فدا ہو جائیں ، آپ نے صبر سے کام لیا اور سچائی کے ساتھ رسالت کی تبلیغ کر دی ، اور آپ کا انتقال ایسی حالت میں ہوا ، کہ دین مضبوط واضح اور صاف ہے ، اگر آپ کا پروردگار ، آپ کو ہمارے درمیان باقی رہنے دیتا ، تو یہ ہماری خوش نصیبی ہوتی ، لیکن اس کا فیصلہ پورا ہو کر رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر سلام ہو ، جو تحیت کے طور پر ہو ، اور آپ کو ایسی حالت میں ” جنت عدن “ میں داخل کیا جائے ، کہ آپ راضی ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14280
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (203/20)»