مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ادْعُوا لِي بِصَحِيفَةٍ وَدَوَاةٍ أَكْتُبْ لَكَمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدِي أَبَدًا " . فَكَرِهْنَا ذَلِكَ أَشَدَّ الْكَرَاهَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُوا لِي بِصَحِيفَةٍ أَكْتُبْ لَكَمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا " . فَقَالَ النِّسْوَةُ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ : أَلَا يَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : إِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ ، إِذَا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَصَرْتُنَّ أَعْيُنَكُنَّ ، وَإِذَا صَحَّ رَكِبْتُنَّ رَقَبَتَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعُوهُنَّ ; فَإِنَّهُنَّ خَيْرٌ مِنْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَعْفَرِيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : فِي حَدِيثِهِ نَظَرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : میرے پاس ایک صحیفہ اور دوات لے کر آؤ ، تاکہ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں ، کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، راوی کہتے ہیں : تو ہمیں یہ بات بہت گراں گزری ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس صحیفہ لے کر آؤ ، تاکہ میں تمہارے لئے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، تو پردے کے پیچھے سے خواتین نے کہا: کیا یہ لوگ وہ بات نہیں سن رہے ؟ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں ، تو میں نے کہا: تم لوگ سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کی خواتین کی طرح ہو ، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تھے ، تو تم نے اپنی آنکھیں نچوڑ لی تھیں ، تو اب جب وہ تندرست ہو رہے ہیں ، تو تم ان کی گردن پر سوار ہو رہی ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کو رہنے دو ! کیونکہ یہ تم لوگوں سے بہتر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن ابراہیم جعفری ہے ، عقیلی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ روایت میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔