حدیث نمبر: 14238
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ ، خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوصِيهِ ، وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " يَا مُعَاذُ ، إِنَّكَ عَسَى أَلَّا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا ، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا ، وَقَبْرِي " . فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا ; لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِيَ الْمُتَّقُونَ ، مَنْ كَانُوا ، وَحَيْثُ كَانُوا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَقَالَ فِي أَحَدِهِمَا : عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّ مُعَاذًا ، وَقَالَ وَفِيهَا : قَالَ : " لَا تَبْكِ يَا مُعَاذُ ، الْبُكَاءُ - أَوْ إِنَّ الْبُكَاءَ - مِنَ الشَّيْطَانِ " . وَرِجَالُ الْإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ نکلے ، آپ انہیں تلقین کر رہے تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ پیدل چل رہے تھے ، جب آپ گفتگو کر کے فارغ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : اے معاذ ! ہو سکتا ہے اس سال کے بعد ہماری ملاقات نہ ہو ، ہو سکتا ہے کہ تمہارا گزر میری اس مسجد سے اور میری قبر کے پاس سے ہو ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کی پریشانی کی وجہ سے رو پڑے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رخ پھیرا ، آپ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : ” میرے سب سے زیادہ قریب لوگ پرہیزگار ہوں گے ، خواہ وہ جو بھی ہوں ، اور جہاں بھی ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، انہوں نے ایک سند میں یہ کہا: ہے : عاصم بن حمید کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ بات روایت کی ہے ، اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اے معاذ ! تم نہ روؤ ! کیونکہ رونا ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔ “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ دونوں اسناد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف راشد بن سعد اور عاصم بن حمید کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (121/20) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (235/5)»