حدیث نمبر: 14206
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ الْعَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا ، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْمُقَدِّمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین ، پردہ دار خواتین سے زیادہ حیا والے تھے ، جب آپ کو کوئی چیز ناگوار گزرتی تھی ، تو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حیاء ، ساری کی ساری بھلائی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمر مقدمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14206
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2458)»