حدیث نمبر: 14196
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَيْضًا قَالَ : خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَشْرَ سِنِينَ مَا دَرَيْتُ شَيْئًا قَطُّ وَافَقَهُ ، وَلَا شَيْئًا قَطُّ خَالَفَهُ ، رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِمَا كَانَ ، وَإِنْ كَانَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ لَيَقُولُ : لَوْ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا يَقُولُ : " دَعُوهُ ; فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ إِلَّا مَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - " . وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا إِنِ انْتُهِكَتْ لِلَّهِ حُرْمَةٌ ، فَانِ انْتُهِكَتْ لِلَّهِ حُرْمَةٌ كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ غَضَبًا لِلَّهِ ، وَمَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ سُخْطٌ لِلَّهِ ، فَانْ كَانَ فِيهِ لِلَّهِ سُخْطٌ كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی ہے ، مجھے نہیں یاد کہ کبھی ایسا ہوا ہو ، کہ آپ نے کبھی کسی چیز کی موافقت کی ہو ، یا کسی چیز کی مخالفت کی ہو ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی سامنے آتا تھا ، آپ اس سے راضی ہوتے تھے ، اگر آپ کی ازواج میں سے کوئی خاتون یہ کہہ دیتی تھیں : اگر تم اس طرح اور اس طرح کر لیتے تو یہ مناسب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : اسے رہنے دو ! کیونکہ ہو گا صرف وہی ، جو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا ہو ، میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات کے لئے کسی حوالے سے انتقام لیا ہو ، البتہ جب اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کی پامالی ہوتی تھی ، تو معاملہ مختلف تھا ، جب اللہ تعالیٰ کی کسی حرمت کو پامال کیا جاتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، آپ سب سے زیادہ غضبناک ہوتے تھے اور جب بھی آپ کے سامنے دو معاملات پیش کیے گئے ، تو آپ نے اس کو اختیار کیا ، جو زیادہ آسان ہوتا تھا ، جبکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا پہلو نہ پایا جاتا ہو ، اگر اس میں ناراضگی کا پہلو پایا جاتا ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سب سے زیادہ دور رہتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14196
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1100)»