حدیث نمبر: 14077
وَعَنْ أَبِي يُونُسَ قَالَ : كُنْتُ تَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ سَأَلَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ وَإِذَا قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ سَأَلَنِي سَمُرَةُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : كُنَّا سَبْعَةً فِي بَيْتٍ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " آخِرُكُمْ مَوْتًا فِي النَّارِ " . فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنَا وَسَمُرَةَ . قُلْتُ : لَعَلَّهُ أَرَادَ نَارَ الدُّنْيَا فَإِنَّ سَمُرَةَ مَاتَ كَذَلِكَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابویونس بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں تاجر تھا ، جب میں مدینہ منورہ آیا ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ، جب میں بصرہ آیا ، تو سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ہم سات افراد ایک گھر میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” تم میں سے آخر میں مرنے والا ، آگ میں جائے گا ۔ “ ( پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) اب اُن افراد میں سے ، صرف میں اور سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شاید اس سے مراد دنیاوی آگ تھی ، کیونکہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کا انتقال آگ کی وجہ سے ہی ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف