حدیث نمبر: 14075
وَعَنْ رَافِعٍ قَالَ : كَانَ بِالرَّحَّالِ ابْنِ غَنْمُوَيْهِ مِنَ الْخُشُوعِ وَاللُّزُومِ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَالْخَيْرِ فِيمَا يَرَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ عَجِيبٌ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا وَالرَّحَّالُ مَعَنَا جَالِسٌ مَعَ نَفَرٍ فَقَالَ : " أَحَدُ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ فِي النَّارِ " . قَالَ رَافِعٌ : فَنَظَرْتُ فِي الْقَوْمِ فَإِذَا أَبُو هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيُّ وَأَبُو أَرْوَى الدَّوْسِيُّ وَالطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ وَرَحَّالُ بْنُ غَنْمُوَيْهِ ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ وَأَتَعَجَّبُ وَأَقُولُ : مَنْ هَذَا الشَّقِيُّ ؟ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجَعَتْ بَنُو حَنِيفَةَ ، فَسَأَلْتُ : مَا فَعَلَ الرَّحَّالُ بْنُ غَنْمُوَيْهِ ؟ فَقَالُوا : افْتُتِنَ هُوَ الَّذِي شَهِدَ لِمُسَيْلِمَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ أَشْرَكَهُ فِي الْأَمْرِ بَعْدَهُ . فَقُلْتُ : مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهُوَ حَقٌّ وَسَمِعَ الرَّحَّالَ وَهُوَ يَقُولُ : كَبْشَانِ انْتَطَحَا فَأَحَبُّهُمَا إِلَيْنَا كَبْشُنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ فِيهِ : الرَّحَّالُ بِالْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ الْمُشَدَّدَةِ وَهَكَذَا قَالَهُ الْوَاقِدِيُّ وَالْمَدَائِنِيُّ وَتَبِعَهُمَا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ سَعِيدٍ وَوَهِمَ فِي ذَلِكَ . وَالْأَكْثَرُونَ قَالُوا : إِنَّهُ بِالْجِيمِ الدَّارَقُطْنِيُّ وَابْنُ مَاكُولَا ، وَفِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ الْوَاقِدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رحال بن غنمویہ ( نامی فرد ) میں ، بہت خشوع و خضوع پایا جاتا تھا ، وہ قرآن کریم کی تلاوت باقاعدگی سے کرتا تھا ، وہ بھلائی کے کام باقاعدگی سے کرتا تھا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت رحال بھی ہمارے ساتھ کچھ دیگر افراد سمیت بیٹھا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں میں سے ایک شخص جہنم میں جائے گا ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان لوگوں کا جائزہ لیا ، تو ان میں سیدنا ابوہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا ابوارویٰ دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ تھے ، رحال بن غنمویہ تھا ، میں اُن کا جائزہ لیتا رہا اور حیران ہوتا رہا ، میں نے سوچا کہ وہ بدنصیب کون ہو گا ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو بنو حنیفہ مرتد ہو گئے میں نے دریافت کیا : رحال بن غنمویہ کا کیا بنا ؟ تو لوگوں نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے آزمائش کا شکار ہو گیا ، جو اُس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مسیلمہ کے حق میں یہ گواہی دی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے بعد حکومت کا نگران مقرر کیا تھا ، میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی تھی ، وہ بات حق ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) انہوں نے رحال کو یہ کہتے ہوئے سنا : دو مینڈھے ایک دوسرے کے ساتھ سینگ لڑا رہے ہیں ، تو ان دونوں میں سے ہمارے نزدیک ہمارا مینڈھا زیادہ محبوب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس روایت میں اس شخص کا نام ” رحال “ نقل کیا ہے ، واقدی اور مدائنی نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے ، عبدالغنی بن سعید نے ان دونوں کی متابعت کی ہے ، لیکن انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے ، زیادہ تر لوگوں نے یہ کہا: ہے کہ اس کا نام ” ج“ کے ساتھ ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ اور ابن ماکولا نے یہی بات بیان کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14075
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4434)»