مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ إِخْبَارِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمُغَيَّبَاتِ . باب: نبی اکرم ﷺ کا غیبی امور کے بارے میں خبر دینا
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : جَلَسَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجُمَحِيُّ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بَعْدَ مُصَابِ أَهْلِ بَدْرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْحِجْرِ بِيَسِيرٍ ، وَكَانَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ شَيْطَانًا مِنْ شَيَاطِينَ قُرَيْشٍ ، وَكَانَ مِمَّنْ يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ وَيَلْقَوْنَ مِنْهُ عَنَاءَ أَذَاهُمْ بِمَكَّةَ ، وَكَانَ ابْنُ وَهْبِ بْنِ عُمَيْرٍ فِي أُسَارَى أَصْحَابِ بَدْرٍ . قَالَ : فَذَكَرُوا أَصْحَابَ الْقَلِيبِ بِمُصَابِهِمْ فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ فِي الْعَيْشِ خَيْرًا بَعْدَهُمْ . فَقَالَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ : صَدَقْتَ وَاللَّهِ لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ لَيْسَ عِنْدِي قَضَاؤُهُ ، وَعِيَالِي أَخْشَى عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ بَعْدِي لَرَكِبْتُ إِلَى مُحَمَّدٍ حَتَّى أَقْتُلَهُ فَإِنَّ لِي فِيهِمْ عِلَّةً ابْنِي عِنْدَهُمْ أَسِيرًا فِي أَيْدِيهِمْ . قَالَ : فَاغْتَنَمَهَا صَفْوَانُ فَقَالَ : عَلَيَّ دَيْنُكَ أَنَا أَقْضِيهِ عَنْكَ ، وَعِيَالُكَ مَعَ عِيَالِي أُسَوِّيهِمْ مَا بَقُوا لَا نَسَعُهُمْ بِعَجْزٍ عَنْهُمْ . قَالَ عُمَيْرٌ : اكْتُمْ عَنِّي شَأْنِي وَشَأْنَكَ . قَالَ : أَفْعَلُ ، ثُمَّ أَمَرَ عُمَيْرٌ بِسَيْفِهِ فَشُحِذَ وَسُمَّ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى الْمَدِينَةِ . فَبَيْنَمَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِالْمَدِينَةِ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَتَذَاكَرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ وَمَا أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِهِ وَمَا أَرَاهُمْ مِنْ عَدُوِّهِمْ ، إِذْ نَظَرَ إِلَى عُمَيْرِ بْنِ وَهْبٍ قَدْ أَنَاخَ بِبَابِ الْمَسْجِدِ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ فَقَالَ : هَذَا الْكَلْبُ وَاللَّهِ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ ، مَا جَاءَ إِلَّا لِشَرٍّ ، هَذَا الَّذِي حَرَّشَ بَيْنَنَا وَحَرَّزَنَا لِلْقَوْمِ يَوْمَ بَدْرٍ . ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَدْ جَاءَ مُتَوَشِّحًا بِالسَّيْفِ قَالَ : " فَأَدْخِلْهُ " . فَأَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى أَخَذَ بِحِمَالَةِ سَيْفِهِ فِي عُنُقِهِ فَلَبَّهُ بِهَا ، وَقَالَ عُمَرُ لِرِجَالٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ : ادْخُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاجْلِسُوا عِنْدَهُ ، وَاحْذَرُوا هَذَا الْكَلْبَ عَلَيْهِ ; فَإِنَّهُ غَيْرُ مَأْمُونٍ . ثُمَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ وَعُمَرُ آخِذٌ بِحِمَالَةِ سَيْفِهِ فَقَالَ : " أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ ، ادْنُ يَا عُمَيْرُ " . فَدَنَا فَقَالَ : أَنْعِمُوا صَبَاحًا . وَكَانَتْ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ بَيْنَهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَكْرَمَنَا اللَّهُ بِتَحِيَّةٍ خَيْرٍ مِنْ تَحِيَّتِكَ يَا عُمَيْرُ ، السَّلَامُ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ إِنْ كُنْتُ لَحَدِيثَ عَهْدٍ بِهَا . قَالَ : " فَمَا جَاءَ بِكَ ؟ " . قَالَ : جِئْتُ لِهَذَا الْأَسِيرِ الَّذِي فِي أَيْدِيكُمْ فَأَحْسَبُهُ قَالَ : " فَمَا بَالَ السَّيْفِ فِي عُنُقِكَ ؟ " . قَالَ : قَبَّحَهَا اللَّهُ مِنْ سُيُوفٍ فَهَلْ أَغْنَتْ عَنَّا شَيْئًا ؟ قَالَ : " اصْدُقْنِي مَا الَّذِي جِئْتَ لَهُ ؟ " . قَالَ : مَا جِئْتُ إِلَّا لِهَذَا . قَالَ : " بَلَى قَعَدْتَ أَنْتَ وَصَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فِي الْحِجْرِ فَتَذَاكَرْتُمَا أَصْحَابَ الْقَلِيبِ مِنْ قُرَيْشٍ فَقُلْتَ : لَوْلَا دَيْنٌ عَلَيَّ وَعِيَالِي لَخَرَجْتُ حَتَّى أَقْتُلَ مُحَمَّدًا . فَتَحَمَّلَ صَفْوَانُ لَكَ بِدَيْنِكَ وَعِيَالِكَ عَلَى أَنْ تَقْتُلَنِي ، وَاللَّهُ حَائِلٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ ذَلِكَ " . قَالَ عُمَيْرٌ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، قَدْ كُنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُكَذِّبُكَ بِمَا كُنْتَ تَأْتِينَا بِهِ مِنْ خَبَرِ السَّمَاءِ ، وَمَا يَنْزِلُ عَلَيْكَ مِنَ الْوَحْيِ ، وَهَذَا أَمْرٌ لَمْ يَحْضُرْهُ إِلَّا أَنَا وَصَفْوَانُ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا أَنْبَأَكَ بِهِ إِلَّا اللَّهُ ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ وَسَاقَنِي هَذَا الْمَسَاقَ . ثُمَّ شَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَقِّهُوا أَخَاكُمْ فِي دِينِهِ وَأَقْرِئُوهُ الْقُرْآنَ وَأَطْلِقُوا لَهُ أَسِيرَهُ " . ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جَاهِدًا عَلَى إِطْفَاءِ نُورِ اللَّهِ ، شَدِيدَ الْأَذَى لِمَنْ كَانَ عَلَى دِينِ اللَّهِ ، وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْذَنَ لِي فَأَقْدَمُ مَكَّةَ فَأَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الْإِسْلَامِ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَهُمْ وَلَا أُؤْذِيهِمْ كَمَا كُنْتُ أُؤْذِي أَصْحَابَكَ فِي دِينِهِمْ . فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَحِقَ بِمَكَّةَ . وَكَانَ صَفْوَانُ حِينَ خَرَجَ عُمَيْرُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ لِقُرَيْشٍ : أَبْشِرُوا بِوَقْعَةٍ تُنْسِيكُمْ وَقْعَةَ بَدْرٍ . وَكَانَ صَفْوَانُ يَسْأَلُ عَنْهُ الرُّكْبَانَ ، حَتَّى قَدِمَ رَاكِبٌ فَأَخْبَرَهُ بِإِسْلَامِهِ فَحَلَفَ أَنْ لَا يُكَلِّمَهُ أَبَدًا وَلَا يَنْفَعَهُ بِنَفْعٍ أَبَدًا . فَلَمَّا قَدِمَ عُمَيْرٌ مَكَّةَ أَقَامَ بِهَا يَدْعُو إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَيُؤْذِي مَنْ خَالَفَهُ أَذًى شَدِيدًا ، فَأَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ نَاسٌ كَثِيرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤محمد بن جعفر بن زبیر بیان کرتے ہیں ۔ عمیر بن وہب جمحی اور صفوان بن امیہ ، قریش کو بدر میں ہونے والے نقصان کے بعد حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے ، عمیر بن وہب قریش کے شیاطین میں سے ایک تھا ، یہ اُن افراد میں سے تھا ، جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو ایذاء دیا کرتے تھے اور جب وہ لوگ مکہ میں موجود تھے تو اس شخص کی طرف سے ان حضرات کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ، وہب بن عمیر کا بیٹا ، بدر کے قیدیوں میں شامل تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ان لوگوں نے بدر میں مرنے والے مشرکین کا ذکر کیا اور پھر یہ کہا: اللہ کی قسم ! ان کے بعد زندگی میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، تو عمیر بن وہب نے کہا: تم ٹھیک کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اگر میرے ذمہ قرض نہ ہوتا ، جس کی ادائیگی کا میرے پاس بندوبست نہیں ہے ، اور مجھے اپنے اہل و عیال کے خرچ کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں سوار ہو کر سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاتا ، یہاں تک کہ انہیں شہید کر دیتا ، اُن لوگوں میں میری ایک مجبوری بھی ہے ، اور وہ یہ کہ میرا بیٹا ان کے پاس قید ہے ، راوی بیان کرتے ہیں تو صفوان بن امیہ نے اس معاملے کو غنیمت سمجھا اور اس نے کہا: تمہارا قرض ادا کرنا میرے ذمہ ہے ، اور میں وہ تمہاری طرف سے ادا کر دوں گا ، اور تمہارے عیال ، میرے عیال کے ساتھ رہیں گے ، میں ان کے ساتھ برابر کا سلوک کروں گا ، جب تک وہ باقی رہیں گے ، ہم ان کے حوالے سے کسی عاجزی کا اظہار نہیں کریں گے ، عمیر نے کہا: پھر تم نے میرے اور اپنے معاملے کو پوشیدہ رکھنا ہے ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر عمیر نے اپنی تلوار کے بارے میں حکم دیا ، اس کی دھار کو تیز کیا گیا ، اور اُسے زہر میں ڈبو دیا گیا ، پھر وہ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کچھ مسلمانوں کے درمیان موجود تھے ، وہ لوگ غزوہ بدر کا ذکر کر رہے تھے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت سے نوازا ، اور کس طرح ان کے دشمن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن وہب کو دیکھا کہ وہ مسجد کے دروازے پر اپنے جانور کو باندھ رہا تھا ، اس نے گلے میں تلوار لٹکائی ہوئی تھی ، انہوں نے کہا: یہ کتا ، یہ اللہ کا دشمن ، عمیر بن وہب ، یہ ضرور کسی بری نیت سے ہی آیا ہو گا ، یہی وہ شخص ہے ، جس نے ہمارے درمیان افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کی تھی ، اور غزوہ بدر کے دن ہمارا شمار کر کے دشمن کو بتایا تھا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ عمیر بن وہب آیا ہے ، اس نے تلوار لٹکائی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اندر لے آؤ ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گئے ، انہوں نے عمیر کی گردن میں موجود تلوار کو پکڑا ، اور اُسے گردن سے دبوچ کر لے آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ موجود انصار سے تعلق رکھنے والے افراد سے کہا: تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ جاؤ ، اور اس بات سے بچنے کی کوشش کرنا کہ یہ کتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہو ، کیونکہ اس سے اندیشہ ہے ، پھر وہ اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی تلوار کے دستے کو پکڑا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! اسے چھوڑ دو ! اے عمیر ! تم آگے آ جاؤ ! وہ قریب آیا ، اس نے کہا: تم لوگ صبح کے وقت نعمتیں حاصل کرو ، یہ زمانہ جاہلیت میں ، آپس میں سلام کرنے کا مخصوص طریقہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے سلام کے طریقے سے بہتر طریقے کے حوالے سے عزت دی ہے ، اے عمیر ! السلام علیکم کہنا ، اہل جنت کے سلام کا طریقہ ہے ، اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا تو واسطہ اسی سے ہی پڑا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کس لئے آئے ہو ؟ اُس نے کہا: میں اُس قیدی کے سلسلے میں آیا ہوں ، جو آپ لوگوں کے پاس موجود ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جو تمہاری گردن میں تلوار ہے ، اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ ان تلواروں کا بیڑہ غرق کرے ، کیا یہ ہمارے کسی کام آ سکی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مجھے سچ بتاؤ کہ تم کس لئے آئے ہو ؟ اس نے کہا: میں صرف اسی کام کے لئے آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم اور صفوان بن امیہ ” حطیم “ میں بیٹھے ہوئے تھے ، اور تم دونوں قریش سے تعلق رکھنے والے ، بدر میں مارے جانے والے افراد کا ذکر کر رہے تھے ، تو تم نے یہ کہا: کہ اگر میرے ذمہ قرض نہ ہوتا اور مجھے اپنے بال بچوں کا خیال نہ ہوتا ، تو میں نکل کر جاتا اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر دیتا ، تو صفوان نے تمہارا قرض اور تمہارے بال بچوں کا خرچ اپنے ذمہ لے لیا ، اس شرط پر کہ تم مجھے قتل کر دو ، حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور اس معاملے کے درمیان رکاوٹ ہے ، عمیر نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ، یا رسول اللہ ! پہلے آپ آسمان کی خبروں کے حوالے سے ، جو کچھ ہمارے پاس لے کر آتے تھے ، ہم ان کے حوالے سے آپ کی تکذیب کرتے تھے اور آپ پر جو وحی نازل ہوتی تھی ، اس کی بھی تکذیب کرتے تھے ، لیکن اس معاملے میں ، تو صرف میں اور صفوان موجود تھے ، اللہ کی قسم ! مجھے پتہ چل گیا ہے کہ آپ کو اس کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ نے ہی بتایا ہو گا ، تو ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے اسلام کی ہدایت نصیب کی اور مجھے یہاں تک لے آیا ، پھر اس نے سچی گواہی دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے بھائی کو اس کا دین سکھاؤ ! اسے قرآن پڑھاؤ اور اس کے قیدی کو چھوڑ دو ! “ ۔ پھر عمیر نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے میں اللہ کے نور کو بجھانے کے لئے بھرپور کوشش کیا کرتا تھا ، اور جو لوگ اللہ کے دین پر گامزن تھے ، انہیں شدید تکلیف دیا کرتا تھا ، اب میری یہ خواہش ہے کہ آپ مجھے اجازت دیں ، میں مکہ جاتا ہوں اور ان لوگوں کو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اسلام کی طرف دعوت دوں گا ، ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دیدے ، ورنہ میں انہیں بھی اسی طرح اذیت پہنچاؤں گا ، جس طرح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو ان کے دین کے حوالے سے اذیت پہنچایا کرتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دیدی ، تو وہ مکہ چلا گیا ۔ جب عمیر بن وہب مکہ سے روانہ ہوا تھا ، تو صفوان نے قریش سے کہا: تھا : تم لوگ ایک اطلاع کے حوالے سے خوشخبری حاصل کرو ، جو عنقریب تمہارے پاس آنے والی ہے ، اور وہ اطلاع تمہیں بدر کا نقصان بھلا دے گی ، صفوان ، عمیر بن وہب کے بارے میں سواروں سے دریافت کرتا رہا ، یہاں تک کہ ایک سوار آیا اور اس نے عمیر کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں صفوان کو بتایا تو صفوان نے یہ حلف اٹھایا کہ وہ اُس کے ساتھ کبھی کلام نہیں کرے گا اور اسے کبھی کوئی نفع نہیں پہنچائے گا ، جب عمیر مکہ آیا ، تو وہاں مقیم رہ کر اسلام کی طرف دعوت دینے لگا اور جو شخص اس کی مخالفت کرتا تھا ، وہ اسے اذیت پہنچاتا تھا ، پھر عمیر کے ہاتھ پر بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔