حدیث نمبر: 14048
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا مَشَى مَشَى مُجْتَمِعًا لَيْسَ فِيهِ كَسَلٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : لَمْ يَلْتَفِتْ يُعْرَفُ فِي مَشْيِهِ أَنَّهُ غَيْرُ كَسِلٍ وَلَا وَهِنٍ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ التَّابِعِيَّ غَيْرُ مُسَمًّى وَقَدْ سَمَّاهُ الْبَزَّارُ وَهُوَ عِكْرِمَةُ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تھے ، تو چاق و چوبند ہو کر چلتے تھے ، آپ میں کسل مندی نہیں ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر توجہ نہیں دیتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے سے یہ بات پتہ چل جاتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کسل مندی یا کمزوری نہیں ہے ۔ “ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، امام بزار نے اس کا نام بیان کیا ہے ، اور وہ عکرمہ ہے ، اور وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14048
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2391) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (3034)»