مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . باب: موزوں پر مسح کے بارے میں مدت کا تعین کرنا
وَعَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلِهِ : إِذَا أَدْخَلَهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مُحَمَّدٌ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ . ¤سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مسافر کے لئے مدت تین دن اور تین راتیں ہو گی اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہو گی ، وہ اپنے موزوں پر مسح کرتا رہے گا ، جبکہ اس نے پاؤں اس ( موزے ) میں اس وقت داخل کیے ہوں ، جب وہ دونوں باوضو ہوں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” جب اس نے ان دونوں کو باوضو حالت میں داخل کیا ہو “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن ابولیلی محمد ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔