مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَصَائِصِ . باب: ( نبی اکرم ﷺ کے ) خصائص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ( نَافِلَةً لَكَ ) قَالَ : إِنَّمَا كَانَتِ النَّافِلَةُ خَاصَّةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : فِي قَوْلِهِ : ( وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ ) وَقَالَ فِي الْكَبِيرِ : كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَافِلَةً وَلَكُمْ فَضِيلَةً ، وَبَعْضُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ وَغَيْرِهِ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تمہارے لئے نفل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ خاص طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نفل تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” رات کے وقت تم تہجد پڑھو ! یہ تمہارے لئے نفل ہو گا ۔ “ انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کہ یہ نماز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نفل تھی ، اور تمہارے لئے فضیلت ہے ۔ “ امام أحمد کی بعض اسانید اور دیگر حضرات کی بعض اسانید ” حسن “ ہیں ۔