مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَصَائِصِ . باب: ( نبی اکرم ﷺ کے ) خصائص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : " أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَالْوِتْرِ وَلَمْ تُكْتَبْ " ، رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادٍ : " ثَلَاثٌ هُنَّ فَرَائِضُ " ، أَبُو خَبَّابٍ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا عِنْدَ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَفِي بَقِيَّةِ أَسَانِيدِهَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مجھے چاشت کی دو رکعات ادا کرنے کا ، اور وتر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور تم پر یہ لازم قرار نہیں دیے گئے ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایات اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہیں ، اور ان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تین چیزیں ہیں ، جو مجھ پر فرض ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ان کی سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ، جو امام أحمد کے نقل کردہ ہیں ، وہ صحیح کے رجال ہیں اور ان کی بقیہ اسانید میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔