مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . باب: موزوں پر مسح کے بارے میں مدت کا تعین کرنا
حدیث نمبر: 1395
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ خِفَافَنَا ، لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ مَا لَمْ يَخْلَعْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رُدَيْحٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ : صَالِحُ الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ آخری غزوہ ، جس میں ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حصہ لیا ، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں ، مسافر کے لیے اس کی مدت تین دن اور تین راتیں ، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات تھی ، جب تک وہ اسے ( یعنی پاؤں کو موزے سے ) نکالتا نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن رویح ہے ، جس کو ابوحاتم نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : یہ صالح الحدیث ہے ۔