حدیث نمبر: 13935
وَعَنْ خَدِيجَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَا ابْنَ عَمِّ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا جَاءَكَ الَّذِي يَأْتِيكَ أَنْ تُخْبِرَنِي [ بِهِ ] ؟ فَقَالَ [ لِي ] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ يَا خَدِيجَةُ " ، قَالَتْ خَدِيجَةُ : فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَدِيجَةُ هَذَا صَاحِبِي الَّذِي يَأْتِينِي قَدْ جَاءَ " ، فَقُلْتُ لَهُ : قُمْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِي الْأَيْمَنِ ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ تَرَاهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَقُلْتُ لَهُ : تَحَوَّلْ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِي الْأَيْسَرِ ، فَجَلَسَ ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ تَرَاهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، فَقُلْتُ لَهُ : تَحَوَّلْ فَاجْلِسْ فِي حِجْرِي . فَجَلَسَ ، فَقُلْتُ لَهُ : تَرَاهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَتْ خَدِيجَةُ : فَتَحَسَّرْتُ وَطَرَحْتُ خِمَارِي وَقُلْتُ : هَلْ تَرَاهُ ؟ قَالَ : " لَا " ، فَقُلْتُ : هَذَا وَاللَّهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ ، وَاللَّهِ مَا هُوَ شَيْطَانٌ ، قَالَتْ خَدِيجَةُ : فَقُلْتُ لِوَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ذَلِكَ مِمَّا أَخْبَرَنِي [ بِهِ ] مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَرَقَةُ : حَقًّا يَا خَدِيجَةُ حَدِيثُكُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اے چچا زاد ! کیا آپ یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ جو فرشتہ آپ کے پاس آتا ہے ، جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خدیجہ ! ٹھیک ہے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب ایک دن سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، تو میں اس وقت آپ کے پاس موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خدیجہ ! یہ میرا ساتھی میرے پاس آ گیا ہے ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : آپ اُٹھیں اور آ کر میرے دائیں زانوں پر بیٹھ جائیں ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا آپ اُسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے کہا: اب آپ منتقل ہو کر میرے بائیں زانوں پر بیٹھ جائیں ، آپ تشریف فرما ہوئے ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے آپ سے عرض کی : آپ منتقل ہو کر میری گود میں بیٹھ جائیں ، آپ بیٹھ گئے ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ اسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کلائیاں چڑھا لیں ، اور چادر اتار دی اور دریافت کیا : کیا اب آپ اُسے دیکھ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی نہیں ! تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ کوئی معزز فرشتہ ہے ، اللہ کی قسم ! یہ شیطان نہیں ہے ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ورقہ بن نوفل سے اس بارے میں بات چیت کی ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا تھا ، تو ورقہ نے کہا: اے خدیجہ ! تمہاری بات ٹھیک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔