حدیث نمبر: 1392
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيَّ فَذَهَبْتُ ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ لَيْسَ لَهَا يَدَانِ ، فَأَلْقَاهَا عَلَى عَاتِقِهِ فَقَالَ : " صُبَّ عَلَيَّ " فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَكَانَتْ سُنَّةً لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ - وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفُوهُ ، إِلَّا ابْنَ عُدَيٍّ فَقَالَ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا جَاوَزَ الْحَدَّ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّهُ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَيُقْبَلُ إِذَا رَوَى عَنْهُ ثِقَةٌ ، وَهَذَا رَوَى عَنْهُ مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، فَهُوَ مَقْبُولٌ عَلَى مَا قَالَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، آپ نے میری طرف اشارہ کیا ، تو میں آگے ہوا ، میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شامی جبہ پہنا ہوا تھا ، جس کے بازو نہیں تھے ، آپ نے گردن کی طرف سے اسے اتارا اور ارشاد فرمایا : مجھ پر پانی ڈالو ، میں نے آپ پر پانی انڈیلا ، تو آپ نے وضو کرتے ہوئے ، موزوں پر مسح کیا ، مسافر کے لیے سنت تین دن اور تین راتیں ہے ، جبکہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن یزید اودی ہے محدثین نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، صرف ابن عدی کا معاملہ مختلف ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی ہے ، جب کوئی ثقہ شخص اس سے روایت نقل کرے ، تو یہ حد سے آگے چلا جاتا ہے اگرچہ یہ حدیث میں قوی نہیں ہے ، لیکن اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اور جب کسی ثقہ شخص نے اس سے روایت نقل کی ہو ، تو اسے قبول کیا جائے گا ۔ مکی بن ابراہیم نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اور وہ ” صحیح “ کے رجال میں سے ایک ہیں ، تو ابن عدی کے قول کے مطابق یہ راوی مقبول شمار ہو گا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1392
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد مقبول