مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . باب: موزوں پر مسح کے بارے میں مدت کا تعین کرنا
حدیث نمبر: 1389
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا وَنَحْنُ مَعَهُ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ ، وَلَكِنْ مِنْ بَوْلٍ وَنَوْمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَلَكِنْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رَدِيءُ الْحِفْظِ يُخْطِئُ . ¤محمد محی الدین
ابوعبیدہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیا کرتے تھے ، جب ہم آپ کے ساتھ ہوتے تھے کہ ہم تین دن اور تین راتوں تک موزے نہ اتاریں ، البتہ جنابت کا معاملہ مختلف ہے ، پیشاب کرنے یا سونے ( کی وجہ سے وضو ختم ہونے کی صورت میں ہم انہیں نہ اُتاریں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے اور وہ ضعیف ہے ، تاہم ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ خراب حافظے کا مالک ہے اور غلطی کرتا ہے ۔