مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ تَأْيِيدِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَعْدَائِهِ مِنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ . باب: نبی اکرم ﷺ کی ، اپنے انسانی اور جنّ دشمنوں کے خلاف تائید ہونا
حدیث نمبر: 13878
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ سَاجِدًا بِمَكَّةَ ، فَجَاءَ إِبْلِيسُ أَنْ يَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ فَنَفَخَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَفْخَةً بِجَنَاحِهِ ، فَمَا اسْتَوَتْ قَدَمَاهُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَ الْأُرْدُنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں سجدے کی حالت میں تھے ، اسی دوران شیطان آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر پاؤں دیا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے اسے پھونک ماری ، انہوں نے اپنے پروں کے ذریعے اسے پھونک ماری تھی ، تو وہ زمین پر اپنے پاؤں نہیں جما پایا ، یہاں تک کہ اردن پہنچ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔