مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ . باب: بلا عنوان
عَنْ كِنْدِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : حَجَجْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ يَقُولُ : ¤ رَبِّ رُدَّ عَلَيَّ رَاكِبِي مُحَمَّدًا رُدَّهُ لِي وَاصْطَنَعَ عِنْدِي يَدَا قُلْتُ : مَنْ هَذَا تَعْنِي ؟ قَالَ : عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنُ هَاشِمٍ ، ذَهَبَتْ إِبِلٌ لَهُ فَأَرْسَلَ ابْنَ ابْنِهِ فِي طِلْبَتِهَا ، فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِ وَلَمْ يُرْسِلْهُ فِي حَاجَةٍ قَطُّ إِلَّا جَاءَ بِهَا . قَالَ : فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ بِالْإِبِلِ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّ ، لَقَدْ حَزِنْتُ عَلَيْكَ كَالْمَرْأَةِ حُزْنًا لَا يُفَارِقُنِي أَبَدًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤کندیر بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں زمانہ جاہلیت میں حج کے لئے گیا ، تو وہاں ایک شخص بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہا تھا : ” اے میرے پروردگار ! میرے سوار ” محمد “ کو میرے پاس واپس لے آ ، تو اسے میرے پاس لے آ ! اور مجھ پر احسان کر دے ۔ “ میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ اور ان کی مراد کیا ہے ؟ تو کسی نے بتایا : یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ، ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا ، انہوں نے اپنے پوتے کو اس کی تلاش میں بھیجا ہے ، اسے آنے میں دیر ہو گئی ہے ، پہلے یہ اسے جس کام کے لئے بھیجتے تھے ، وہ اس کام کو پورا کر کے آ جاتا تھا ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور اونٹ بھی آ گیا ، تو جناب عبدالمطلب نے کہا: اے میرے بیٹے ! میں تمہارے حوالے سے اس مرتبہ بہت پریشان ہو گیا تھا ، تم مجھ سے کبھی جدا نہ ہوا کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔