حدیث نمبر: 13847
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَبِشَارَةُ عِيسَى قَوْمَهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : " سَأُحَدِّثُكُمْ تَأْوِيلَ ذَلِكَ : دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ ، دَعَا : وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ . وَبِشَارَةُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ قَوْلُهُ : وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ . وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ فِي مَنَامِهَا ، أَنَّهَا وَضَعَتْ نُورًا أَضَاءَتْ مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ " . وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ سُوِيدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اور ( میں ) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اس خوشخبری سے متعلق ایک فرد ہوں ، جو خوشخبری اُنہوں نے اپنی قوم کو دی تھی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں تمہیں اس کے مفہوم کے بارے میں بتاتا ہوں ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے مراد یہ دعا ہے : ” اے اللہ ! تو ان کے درمیان ایسے رسول کو مبعوث کرنا ، جو ان میں سے ہو ۔ “ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی خوشخبری سے مراد ان کا یہ کہنا ہے : ” میں ایک ایسے رسول کی خوشخبری سنانے والا ہوں ، جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام أحمد ہو گا “ اور میری والدہ کے خواب سے مراد ، وہ خواب ہے ، جو انہوں نے سونے کے دوران دیکھا تھا کہ انہوں نے ایک نور کو جنم دیا ہے ، اور اس کی وجہ سے شام کے محلات روشن ہو گئے ۔ “ امام أحمد کی مختلف اسانید میں سے ، ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سعید بن سوید کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13847
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن