حدیث نمبر: 13840
وَعَنْ حَلِيمَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أُمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّعْدِيَّةِ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ قَالَتْ : خَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ نَلْتَمِسُ الرُّضَعَاءَ بِمَكَّةَ ، عَلَى أَتَانٍ لِي قَمْرَاءَ قَدْ أَذْمَتْ فَزَاحَمْتُ بِالرَّكْبِ . قَالَتْ : وَخَرَجْنَا فِي سَنَةٍ شَهْبَاءَ لَمْ تُبْقِ لَنَا شَيْئًا ، وَمَعِي زَوْجِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى . قَالَتْ : وَمَعَنَا شَارِفٌ لَنَا ، وَاللَّهِ إِنْ تَبِضَّ عَلَيْنَا بِقَطْرَةٍ مِنْ لَبَنٍ ، وَمَعِي صَبِيٌّ لِي إِنْ نَنَامُ لَيْلَتَنَا مَعَ بُكَائِهِ ، مَا فِي ثَدْيِي مَا يُعْتِبُهُ ، وَمَا فِي شَارِفِنَا مِنْ لَبَنٍ نَغْذُوهُ إِلَّا أَنَّا نَرْجُو . فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ لَمْ يَبْقَ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا عُرِضَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَأْبَاهُ ، وَإِنَّمَا كُنَّا نَرْجُو كَرَامَةَ رَضَاعِهِ مِنْ وَالِدِ الْمَوْلُودِ ، وَكَانَ يَتِيمًا ، فَكُنَّا نَقُولُ : مَا عَسَى أَنْ تَصْنَعَ أُمُّهُ ؟ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ صَوَاحِبِي امْرَأَةٌ إِلَّا أَخَذَتْ صَبِيًّا ، غَيْرِي ، وَكَرِهْتُ أَنْ أَرْجِعَ وَلَمْ آخُذْ شَيْئًا وَقَدْ أَخَذَ صَوَاحِبِي ، فَقُلْتُ لِزَوْجِي : وَاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى ذَلِكَ فَلْآخُذَنَّهُ . قَالَتْ : فَأَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَرَجَعْتُهُ إِلَى رَحْلِي ، فَقَالَ زَوْجِي : قَدْ أَخْذَتِيهِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ وَاللَّهِ ، ذَاكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ غَيْرَهُ . فَقَالَ : قَدْ أَصَبْتِ ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ فِيهِ خَيْرًا . فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ جَعَلْتُهُ فِي حِجْرِي قَالَتْ : فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ ثَدْيِي بِمَا شَاءَ مِنَ اللَّبَنِ ، قَالَتْ : فَشَرِبَ حَتَّى رُوِيَ وَشَرِبَ أَخُوهُ - تَعْنِي ابْنَهَا - حَتَّى رُوِيَ ، وَقَامَ زَوْجِي إِلَى شَارِفِنَا مِنَ اللَّيْلِ ، فَإِذَا هِيَ حَافِلٌ فَحَلَبَتْ لَنَا مَا سَنَّنَنَا ، فَشَرِبَ حَتَّى رُوِيَ ، قَالَتْ : وَشَرِبْتُ حَتَّى رُوِيتُ ، فَبِتْنَا لَيْلَتَنَا تِلْكَ بِخَيْرٍ ، شِبَاعًا رِوَاءً ، وَقَدْ نَامَ صَبْيَانِنَا ، قَالَتْ : يَقُولُ أَبُوهُ - يَعْنِي زَوْجَهَا - : وَاللَّهِ يَا حَلِيمَةُ مَا أَرَاكِ إِلَّا أَصَبْتِ نَسَمَةً مُبَارَكَةً ، قَدْ نَامَ صَبِيُّنَا وَرُوِيَ . قَالَتْ : ثُمَّ خَرَجْنَا ، فَوَاللَّهِ لَخَرَجَتْ أَتَانِي أَمَامَ الرَّكْبِ قَدْ قَطَعَتْهُ حَتَّى مَا يَبْلُغُونَهَا ، حَتَّى أَنَّهُمْ لَيَقُولُونَ : وَيْحَكِ يَا بِنْتَ الْحَارِثِ ، كُفِّي عَلَيْنَا ، أَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَتَانِكِ الَّتِي خَرَجْتِ عَلَيْهَا ؟ فَأَقُولُ : بَلَى وَاللَّهِ وَهِيَ قُدَّامُنَا . حَتَّى قَدِمْنَا مَنَازِلَنَا مِنْ حَاضِرِ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ، فَقَدِمْنَا عَلَى أَجْدَبِ أَرْضِ اللَّهِ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ حَلِيمَةَ بِيَدِهِ إِنْ كَانُوا لَيُسَرِّحُونِ أَغْنَامَهُمْ إِذَا أَصْبَحُوا ، وَيُسَرِّحُ رَاعِي غَنَمِي فَتَرُوحُ غَنَمِي بِطَانًا لَبَنًا حُفَّلًا ، وَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا هَالِكَةً مَا بِهَا مِنْ لَبَنٍ . قَالَتْ : فَشَرِبْنَا مَا شِئْنَا مِنْ لَبَنٍ وَمَا فِي الْحَاضِرِ أَحَدٌ يَحْلِبُ قَطْرَةً وَلَا يَجِدُهَا ، فَيَقُولُونَ لِرُعَاتِهِمْ : وَيْلَكُمُ أَلَا تُسَرِّحُونَ حَيْثُ يُسَرِّحُ رَاعِي حَلِيمَةَ ؟ فَيُسَرِّحُونَ فِي الشِّعْبِ الَّذِي يُسَرِّحُ فِيهِ رَاعِينَا ، وَتَرُوحُ أَغْنَامُهُمْ جِيَاعًا مَا بِهَا مِنْ لَبَنٍ وَتَرُوحُ غَنَمِي حُفْلًا لَبَنًا . قَالَتْ : وَكَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشِبُّ فِي الْيَوْمِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي شَهْرٍ ، وَيَشِبُّ فِي الشَّهْرِ شَبَابَ الصَّبِيِّ فِي سَنَةٍ ، فَبَلَغَ سِتًّا وَهُوَ غُلَامٌ جَفْرٌ . قَالَتْ : فَقَدِمْنَا عَلَى أُمَّهُ فَقُلْنَا لَهَا ، وَقَالَ لَهَا أَبُوهُ رُدُّوا عَلَيْنَا ابْنِي فَلْنَرْجِعْ بِهِ فَإِنَّا نَخْشَى عَلَيْهِ وَبَاءَ مَكَّةَ . قَالَتْ : وَنَحْنُ أَضَنُّ بِشَأْنِهِ لِمَا رَأَيْنَا مِنْ بَرَكَتِهِ قَالَتْ : فَلَمْ نَزَلْ بِهَا حَتَّى قَالَتْ : ارْجِعَا بِهِ . فَرَجَعْنَا بِهِ فَمَكَثَ عِنْدَنَا شَهْرَيْنِ . قَالَتْ : فَبَيْنَا هُوَ يَلْعَبُ وَأَخُوهُ يَوْمًا خَلْفَ الْبُيُوتِ ، يَرْعَيَانِ بِهِمَا لَنَا إِذْ جَاءَنَا أَخُوهُ يَشْتَدُّ ، فَقَالَ لِي وَلِأَبِيهِ : أَدْرِكَا أَخِي الْقُرَشِيَّ ، قَدْ جَاءَهُ رَجُلَانِ فَأَضْجَعَاهُ فَشَقَّا بَطْنَهُ ، فَخَرَجْنَا نَحْوَهُ نَشْتَدُّ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ قَائِمٌ مُنْتَقِعٌ لَوْنُهُ ، فَاعْتَنَقَهُ أَبُوهُ وَاعْتَنَقْتُهُ ، ثُمَّ قُلْنَا : مَالَكَ أَيْ بُنَيَّ ؟ قَالَ : " أَتَانِي رَجُلَانِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بَيَاضٌ فَأَضْجَعَانِي ثُمَّ شَقَّا بَطْنِي ، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا صَنَعَا " . قَالَتْ : فَاحْتَمَلْنَاهُ فَرَجَعْنَا بِهِ ، قَالَتْ : يَقُولُ أَبُوهُ : وَاللَّهِ يَا حَلِيمَةُ ، مَا أَرَى هَذَا الْغُلَامَ إِلَّا قَدْ أُصِيبَ ، فَانْطَلِقِي فَلْنَرُدَّهُ إِلَى أَهْلِهِ قَبْلَ أَنْ يَظْهَرَ بِهِ مَا نَتَخَوَّفُ عَلَيْهِ . قَالَتْ : فَرَجِعْنَا بِهِ إِلَيْهَا فَقَالَتْ : مَا رَدَّكُمَا بِهِ ؟ وَقَدْ كُنْتُمَا حَرِيصِينَ عَلَيْهِ . قَالَتْ : فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ إِنَّا كَفَلْنَاهُ وَأَدَّيْنَا الْحَقَّ الَّذِي يَجِبُ عَلَيْنَا فِيهِ . ثُمَّ تَخَوَّفْتُ الْأَحْدَاثَ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَكُونُ فِي أَهْلِهِ ، قَالَتْ : فَقَالَتْ أُمُّهُ : وَاللَّهِ مَا ذَاكَ بِكُمَا ، فَأَخْبِرَانِي خَبَرَكُمَا وَخَبَرَهُ . قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ بِنَا حَتَّى أَخْبَرْنَاهَا خَبَرَهُ ، قَالَتْ : فَتَخَوَّفْتُمَا عَلَيْهِ ؟ كَلَّا وَاللَّهِ ، إِنَّ لِابْنِي هَذَا لَشَأْنًا ، أَلَا أُخْبِرُكُمَا عَنْهُ ؟ إِنِّي حَمَلْتُ بِهِ فَلَمْ أَرَ حَمْلًا قَطُّ كَانَ أَخَفَّ وَلَا أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ ، ثُمَّ رَأَيْتُ نُورًا كَأَنَّهُ شِهَابٌ خَرَجَ مِنْ حِينِ وَضَعْتُهُ ، أَضَاءَتْ لِي أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بِبُصْرَى ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ ، فَمَا وَقَعَ كَمَا تَقَعُ الصِّبْيَانُ ، وَقَعَ وَاضِعًا يَدَهُ بِالْأَرْضِ رَافِعًا رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، دَعَاهُ وَالْحَقَا بِشَأْنِكُمَا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حَدَّى حَلِيمَةُ بِنْتُ أَبِي ذُؤَيْبٍ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ حلیمہ بنت حارث سعدیہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی ماں ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ” میں بنو بکر بن سعد کی کچھ خواتین کے ساتھ نکلی ، ہمارا مقصد مکہ میں دودھ پینے والے بچے کو حاصل کرنا تھا ، میں ایک گدھی پر سوار ہوئی ، جس کا رنگ سفید تھا اور وہ تھکی ہوئی تھی ، وہ دوسرے سواروں کے ساتھ نہیں چل پاتی تھی ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم قحط سالی کے زمانے میں نکلے تھے ، ہماری کوئی چیز باقی نہیں بچی تھی ، میرے ساتھ میرے شوہر حارث بن عبدالعزیٰ تھے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہمارے ساتھ ہماری ایک اونٹنی بھی تھی ، اللہ کی قسم ! اس کا دودھ تھوڑا تھوڑا کر کے اترتا تھا ، میرے ساتھ میرا بچہ بھی تھا ، رات کو جب ہم سوتے تھے ، تو وہ رو رہا ہوتا تھا کیونکہ میری چھاتی میں اتنا دودھ نہیں تھا ، جو اسے سیراب کر سکے اور ہماری اونٹنی کا بھی اتنا دودھ نہیں ہوتا تھا کہ ہم اسے غذا فراہم کر سکیں ، لیکن پھر بھی ہمیں امید تھی ، جب ہم مکہ آئے ، تو ہم میں سے ہر ایک خاتون کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشکش کی گئی ، لیکن ہر خاتون نے انکار کر دیا کیونکہ ہم خواتین کو یہ امید ہوتی تھی کہ بچے کا باپ دودھ پلانے کے عوض میں اچھا معاوضہ دے گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم تھے ، تو ہم یہ سوچتے تھے کہ اس کی والدہ کیا کر لیں گی ؟ یہاں تک کہ یہ صورت حال ہو گئی کہ ہماری ساتھی خواتین نے کوئی نہ کوئی بچہ حاصل کر لیا ، صرف مجھے کوئی بچہ نہیں ملا ، مجھے یہ بات بھی اچھی نہیں لگی کہ میں ایسے ہی چلی جاؤں ، کہ میں نے کوئی بچہ نہ لیا ہو ، اور میری ساتھی خواتین نے بچے لے لیے ہوں ، تو میں نے اپنے شوہر سے کہا: اللہ کی قسم ! میں ان لوگوں کی طرف جاتی ہوں اور بچے کو حاصل کر لیتی ہوں ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئی اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے لیا ، جب میں آپ کو لے کر واپس اپنی رہائشی جگہ پر آئی ، تو میرے شوہر نے دریافت کیا : تم نے اسے لے لیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم مجھے اس کے علاوہ اور کوئی بچہ نہیں ملا ، تو میرے شوہر نے کہا: تم نے ٹھیک کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں بھلائی پیدا کر دے گا ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو اپنی گود میں لیا ، تو آپ میری چھاتی کی طرف آئے اور آپ نے جتنا چاہا دودھ پی لیا ، آپ نے اتنا دودھ پیا کہ آپ سیر ہو گئے ، پھر آپ کے بھائی نے یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے نے بھی دودھ پیا ، یہاں تک کہ وہ بھی سیر ہو گیا ، رات کے وقت میرا شوہر اُٹھ کر ہماری اونٹنی کے پاس گیا ، تو وہ دودھ سے بھری ہوئی تھی ، اس نے ہمارے لئے اتنا دودھ دوہ لیا ، جس کے ذریعے ہمارا رات کا گزارا ہو سکتا تھا ، انہوں نے دودھ پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، میں نے دودھ پیا ، یہاں تک کہ میں بھی سیر ہو گئی ، تو وہ رات ہم نے ایسی حالت میں گزاری کہ ہم لوگ سیر تھے اور ہمارے بچے بھی سوتے رہے ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس بچے کے باپ نے یعنی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر نے کہا: اللہ کی قسم ! اے حلیمہ ! تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم نے ہمارے لئے ایک برکت والے وجود کو حاصل کیا ہے ، ہمارے بچے سو رہے ہیں اور وہ سیر بھی ہیں ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوئے ، اللہ کی قسم ! میری گدھی تمام سواروں سے آگے نکل رہی تھی ، یہاں تک کہ وہ اتنی آگے چلی جاتی تھی کہ دوسرے لوگ اس تک نہیں پہنچ پاتے تھے ، یہاں تک کہ وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اے حارث کی صاحبزادی ! تمہارا ستیاناس ہو ، اسے روک کے رکھو ، کیا یہ تمہاری وہی گدھی نہیں ہے ؟ جس پر سوار ہو کے تم آئی تھیں ، تو میں کہتی تھی : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! لیکن وہ پھر بھی آگے آگے ہی رہی ، یہاں تک کہ ہم بنو سعد بن بکر کے علاقے میں اپنی رہائشی جگہ پر آ گئے ، ہم ایک ایسی جگہ پر آئے تھے جو اللہ کی زمین میں سب سے زیادہ خشک سالی والی تھی ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں حلیمہ کی جان ہے ، صبح کے وقت لوگ اپنی بکریاں بھیجا کرتے تھے اور میرا چرواہا میری بکریاں لے کر جایا کرتا تھا ، شام کو میری بکریاں آتی تھیں تو وہ صحت مند ہوتی تھیں اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہوتے تھے اور لوگوں کی بکریاں بھوکی آتی تھیں ، ہلاکت کا شکار ہوتی تھیں ، ان کے تھنوں میں دودھ نہیں ہوتا تھا ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم جتنا چاہتے تھے اتنا دودھ پی سکتے تھے اور باقی لوگوں میں سے کسی ایک کے دودھ کا ایک قطرہ نہیں نکلتا تھا ، وہ انہیں میسر ہی نہیں ہوتا تھا ، وہ اپنے چرواہوں سے کہتے تھے : تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، تم وہاں جانور کیوں نہیں چراتے ہو ؟ جہاں حلیمہ کا چرواہا چراتا ہے ، تو وہ لوگ اس گھاٹی میں آ جاتے تھے ، جہاں ہمارا چرواہا چرا رہا ہوتا تھا لیکن پھر بھی ان کی بکریاں بھوکی آتی تھیں ، ان میں دودھ نہیں ہوتا تھا اور میری بکریاں دودھ سے بھری ہوئی آتی تھیں ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میں اتنے بڑے ہو رہے تھے ، جتنا کوئی بچہ ایک مہینے میں بڑا ہوتا ہے ، اور آپ ایک مہینے میں اتنے بڑے محسوس ہوتے تھے ، جیسے کوئی بچہ ایک سال میں بڑا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ چھ ماہ کی عمر میں ، آپ ایک بڑے بچے لگتے تھے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ آپ کی والدہ کے پاس آئے ، ہم نے ان سے کہا: آپ اپنے بچے کو ہمارے پاس رہنے دیں ہم اسے واپس لے جاتے ہیں ، کیونکہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ مکہ کی وباء اسے نقصان پہنچائے گی ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم نے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت دیکھی ہوئی تھی ، اس لئے ہم آپ کے حوالے سے حریص تھے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ہم مسلسل اس حوالے سے بات چیت کرتے رہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے کہا: تم دونوں اسے ساتھ لے جاؤ ! تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کے واپس آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو ماہ ہمارے پاس ٹھہرے رہے ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی گھروں کے پیچھے کھیل رہے تھے اور وہ ہمارے جانوروں کو بھی چرا رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رضاعی بھائی ہمارے پاس دوڑتا ہوا آیا ، اس نے مجھ سے اور اپنے والد سے کہا: آپ دونوں میرے قریشی بھائی کے پاس پہنچیں ، اس کے پاس دو آدمی آئے ہیں ، ان دونوں نے اسے لٹا لیا ہے ، اس کے پیٹ کو چیر دیا ہے ، تو ہم لوگ دوڑتے ہوئے ان کی طرف گئے ، جب ہم ان کے پاس پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے اور آپ کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی ، میرے شوہر نے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گلے لگا لیا ، پھر ہم نے کہا: اے میرے بیٹے ! کیا ہوا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : دو آدمی میرے پاس آئے ، جن کے جسم پر سفید لباس تھے ان دونوں نے مجھے لٹا دیا ، پھر انہوں نے میرا سینہ چیر دیا ، اللہ کی قسم ! مجھے نہیں سمجھ آئی کہ انہوں نے کیا کیا ہے ؟ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو ہم نے انہیں گود میں اٹھایا اور انہیں لے کر واپس آ گئے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رضاعی باپ نے کہا: اللہ کی قسم ! اے حلیمہ ! اس لڑکے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اسے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے ، تو تم چلو ! تاکہ ہم اسے اس کے گھر والوں کو لوٹا دیں ، اس سے پہلے کہ اس کے ساتھ وہ چیز پیش آئے جس کے حوالے سے ہمیں اندیشہ ہے ۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم آپ کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کے پاس آئے ، انہوں نے ہم سے دریافت کیا : تم لوگ اسے لے کر کیوں آ گئے ہو ؟ تم دونوں تو اسے اپنے ساتھ رکھنے پر حریص تھے ؟ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم نے اس کی کفالت کر دی ہے ، اور حق ادا کر دیا ہے ، جو ہمارے ذمہ اس کے حوالے سے لازم تھا اور ہمیں اس کے بارے میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا ، تو ہم نے سوچا کہ یہ اپنے گھر والوں میں ہی رہے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ معاملہ نہیں ہے ، تم لوگ مجھے اصل بات بتاؤ ، جو تمہارے اور اس کے بارے میں ہے ، سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! وہ مسلسل ہمارے ساتھ بات چیت کرتی رہیں ، یہاں تک کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت حال کے بارے میں انہیں بتا دیا ، تو انہوں نے کہا: کیا تم دونوں کو اس کے حوالے سے اندیشہ ہے ؟ اللہ کی قسم ! ایسا ہرگز نہیں ہو گا ، میرے بیٹے کی بڑی شان ہو گی ، کیا میں تم دونوں کو اس کے بارے میں بتاؤں ؟ جب مجھے اس کا حمل ہوا ، تو میں نے کوئی ایسا حمل نہیں دیکھا جو اس سے زیادہ ہلکا اور اس سے زیادہ برکت والا ہو ، پھر میں نے نور کو دیکھا ، جو ایک ستارے کی طرح تھا اور وہ اس وقت نکلا ، جب میں نے اس کو جنم دیا تھا ، تو اس کی وجہ سے بصریٰ میں موجود اونوں کی گردنیں میرے سامنے روشن ہو گئیں ، پھر میں نے اس کو جنم دیا ، تو یہ اس طرح نہیں آیا ، جس طرح دوسرے بچے آتے ہیں ، اس نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا ہوا تھا اور سر آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا اور یہ دعا کر رہا تھا ، بہرحال تم لوگ چلے جاؤ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حلیمہ بنت ابوذؤیب رضی اللہ عنہا کے ہاں مقیم رہے ۔ “ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13840
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7163) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2120/24)»