حدیث نمبر: 13818
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ذُكِرَ خَالِدُ بْنُ سِنَانٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ذَاكَ نَبِيٌّ ضَيَّعَهُ قَوْمُهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : جَاءَتْ بِنْتُ خَالِدِ بْنِ سِنَانٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ لَهَا ثَوْبَهُ . وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَلَكِنْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ مَعَ وَرَعِهِ ، وَابْنُ مَعِينٍ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مُعَارِضٌ لِلْحَدِيثِ الصَّحِيحِ قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ ، الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعِلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ " . قَالَ الْبَزَّارُ : رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلًا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خالد بن سنان کا ذکر کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ نبی تھا ، اُس کی قوم نے اُسے ضائع کر دیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” خالد بن سنان کی صاحبزادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس خاتون کے لئے اپنا کپڑا بچھا دیا تھا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن اس کے پرہیزگار ہونے کے باوجود امام أحمد اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ یہ والی روایت اُس ” صحیح “ حدیث کے برخلاف ہے ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے : ” میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں ، تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں ، اور میرے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔ “ امام بزار کہتے ہیں :یہ روایت ثوری نے سالم کے حوالے سے سعید بن جبیر سے ” مرسل “ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13818
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2361)»