حدیث نمبر: 13804
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَلْقَى اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِذَنْبٍ ، وَقَدْ يُعَذِّبُهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ أَوْ يَرْحَمُهُ ، إِلَّا يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا ، فَإِنَّهُ كَانَ " سَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ " . وَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَذَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَأَخَذَهَا وَقَالَ : " ذَكَرُهُ مِثْلَ هَذِهِ الْقَذَاةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرُّعَيْنِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ہر انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی گناہ کے ہمراہ حاضر ہو گا ، جس کا اس نے ارتکاب کیا ہو گا ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا ، تو اس گناہ کے حوالے سے اسے عذاب دیدے گا اور اگر چاہے گا ، تو اس پر رحم کر دے گا ، صرف سیدنا یحیی بن زکریا علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ وہ سردار تھے ، پاک دامن تھے اور نبی تھے ، اور نیک لوگوں میں سے تھے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر پڑے ہوئے ایک تیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا اسے پکڑایا اور پھر یہ فرمایا : اُن کی شرمگاہ اس تیلے کی مانند تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن سلیمان رعینی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13804
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف