حدیث نمبر: 13799
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ سُلَيْمَانُ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ رَأَى شَجَرَةً نَابِتَةً بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَيَقُولُ لَهَا : مَا اسْمُكِ ؟ فَتَقُولُ : كَذَا . فَيَقُولُ : لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : لِكَذَا فَإِنْ كَانَتْ لِغَرْسٍ غَرَسَ ، وَإِنْ كَانَتْ لِدَاءٍ كَتَبَ ، فَبَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ يُصَلِّي إِذَا شَجَرَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ لَهَا : مَا اسْمُكِ ؟ قَالَتْ : الْخَرْنُوبُ . قَالَ : لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ ؟ قَالَتْ : لِخَرَابِ هَذَا الْبَيْتِ . قَالَ سُلَيْمَانُ : اللَّهُمَّ عَمِّ عَلَى الْجِنِّ مَوْتِي حَتَّى يَعْلَمَ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَا تَعْلَمُ الْغَيْبَ . قَالَ : فَنَحَتَهَا عَصًا يَتَوَكَّأُ عَلَيْهَا ، فَأَكَلَتْهَا الْأَرَضَةُ فَسَقَطَ [ ت فَخَرَّ ] فَحَزَرُوا أَكْلَهَا - وَالْجِنُّ تَعْمَلُ - الْأَرَضَةَ فَوَجَدُوهُ حَوْلًا ، فَتَبَيَّنَتِ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا حَوْلًا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ " . وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا هَكَذَا ، فَشَكَرَتِ الْجِنُّ الْأَرَضَةَ فَكَانَتْ تَأْتِيهَا بِالْمَاءِ حَيْثُ كَانَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا ، وَفِيهِ عَطَاءٌ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ کے نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام جب اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے ، تو اپنے آگے کسی درخت کو اگتے ہوئے دیکھتے ، تو اس سے دریافت کرتے : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ ہے ، وہ دریافت کرتے : تم کس مقصد کے لئے ہو ؟ وہ بتا دیتا : اس لئے ہوں ، اگر وہ بونے کے لئے ہوتا تھا ، تو اسے بو دیا جاتا تھا اور اگر وہ بیماری کے لئے ہوتا تھا ، تو اسے نوٹ کر لیا جاتا تھا ، ایک دن اسی طرح وہ نماز ادا کرنے لگے ، تو ان کے سامنے ایک درخت موجود تھا ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ تو اس نے کہا: خرنوب ، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دریافت کیا : تم کس لئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : اس گھر کو بے آباد کرنے کے لئے ، سیدنا سلیمان علیہ السلام نے دعا کی : اے اللہ ! میری موت کو جنات سے پوشیدہ رکھنا ، تاکہ انسانوں کو اس بات کا پتہ چل جائے کہ جنات کو غیب کا علم نہیں ہوتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے عصا رکھا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا لی ، زمین اس عصا کو کھاتی رہی ، یہاں تک کہ چھ ( ماہ ) گزرنے کے بعد وہ عصا گر گیا ، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی گر گئے ، اس دوران جنات کام کرتے رہے ، اور یہ صورت حال ایک سال تک رہی تھی ، تو انسانوں کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ جنات کو غیب کو علم ہوتا ، تو وہ رسوا کرنے والے عذاب میں مبتلاء نہ رہتے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح پڑھا کرتے تھے : ” پھر جنات نے زمین کا شکریہ ادا کیا اور وہ اُن کے پاس پانی لے کے آتی تھی ، خواہ وہ جہاں بھی ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ان دونوں کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13799
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2355) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12281)»