حدیث نمبر: 13796
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانَ دَاوُدُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ أُغْلِقَتِ الْأَبْوَابُ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَرْجِعَ ، قَالَ : فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَغُلِّقَتِ الْأَبْوَابُ ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَطَّلِعُ إِلَى الدَّارِ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ ، فَقَالَتْ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ : مِنْ أَيْنَ دَخَلَ هَذَا الرَّجُلُ الدَّارَ ، وَالدَّارُ مُغْلَقَةٌ ؟ وَاللَّهِ لَيُفْتَضَحَنَّ بِدَاوُدَ . فَجَاءَ دَاوُدُ ، فَإِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ فَقَالَ لَهُ دَاوُدُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الَّذِي لَا أَهَابُ الْمُلُوكَ وَلَا يَمْتَنِعُ مِنِّي الْحُجَّابُ . قَالَ لَهُ دَاوُدُ : أَنْتَ إِذًا وَاللَّهِ مَلَكُ الْمَوْتِ ، مَرْحَبًا بِأَمْرِ اللَّهِ . فَزَمَلَ دَاوُدُ مَكَانَهُ حَيْثُ قُبِضَتْ نَفْسُهُ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ شَأْنِهِ وَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ لِلطَّيْرِ : أَظِلِّي عَلَى دَاوُدَ . فَأَظَلَّتْ عَلَيْهِ الطَّيْرُ حَتَّى أَظْلَمَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ ، قَالَ لَهَا سُلَيْمَانُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اقْبِضِي جَنَاحًا " . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يُرِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَيْفَ فَعَلَتِ الطَّيْرُ ، وَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ ، وَصَلَّتْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ الْمَصْرَخِيَّةُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا داؤد نبی علیہ السلام کے مزاج میں سختی زیادہ تھی ، جب وہ گھر سے نکلتے تھے تو دروازے بند کر دیے جاتے تھے اور پھر ان کے واپس آنے تک کوئی ان کی اہلیہ کے پاس نہیں آ سکتا تھا ، ایک دن وہ تشریف لے گئے ، دروازے بند کر دیے گئے ، ان کی اہلیہ آئیں اور انہوں نے صحن میں جھانکا ، تو صحن کے درمیان ایک شخص کھڑا ہوا تھا ، انہوں نے گھر میں موجود خادمہ سے دریافت کیا : یہ شخص گھر میں کہاں سے آ گیا ہے ؟ جبکہ دروازے بند ہیں ، اللہ کی قسم ! یہ سیدنا داؤد علیہ السلام کے ہاتھوں ضرور شرمندہ ہو گا ، جب سیدنا داؤد علیہ السلام آئے ، تو وہ شخص گھر کے درمیان میں کھڑا ہوا تھا ، سیدنا داؤد علیہ السلام نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں وہ ہوں کہ میں نہ بادشاہوں سے ڈرتا ہوں ، اور نہ ہی کوئی رکاوٹ میرے لئے رکاوٹ بن سکتی ہے ، سیدنا داؤد علیہ السلام نے کہا: پھر تو تم اللہ کی قسم ! ملک الموت ہو گے ، اللہ کے حکم کو خوش آمدید ہے ، پھر سیدنا داؤد نے اسی جگہ پر چادر اوڑھی ، جہاں ان کی جان قبض ہونی تھی ، یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا ، جب اُن پر سورج طلوع ہوا ، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا: تم سیدنا داؤد علیہ السلام پر سایہ کر دو ! تو پرندوں نے سیدنا داؤد علیہ السلام پر سایہ کر دیا ، اور وہ اتنے پرندے تھے کہ پوری زمین پر سایہ ہو گیا ، تو سیدنا سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے کہا: تم اپنے پر سمیٹ لو ! سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کر کے دکھایا کہ پرندوں نے کیسے کیا تھا ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو بند کر لیا ( اور ارشاد فرمایا : ) اُس دن پرندوں نے بھی ان کے لیے دعائے رحمت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن عبداللہ بن حنطب ہے ، جسے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13796
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (419/2)»