مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابُ ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کا تذکرہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - إِنِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَهُ مَسَحَ ظَهْرَهُ ، وَأَخْرَجَ ذُرِّيَّتَهُ ، فَعَرَضَهُمْ عَلَيْهِ ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ . قَالَ : كَمْ عُمْرُهُ ؟ قَالَ : سِتُّونَ . قَالَ : أَيْ رَبِّ ، زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمْرِكَ . فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ عُمْرِهِ ، فَكَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَهُ قَالَ : قَدْ بَقِيَ مِنْ أَجْلِي أَرْبَعُونَ . فَقِيلَ لَهُ : إِنَّكَ قَدْ جَعَلْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ . قَالَ : فَجَحَدَ ، فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ ، فَأَتَمَّهَا لِدَاوُدَ مِائَةَ سَنَةٍ ، وَأَتَمَّهَا لِآدَمَ عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ فِي أَوَّلِهِ : لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ وَقَالَ : كَمْ عُمْرُهُ ؟ قَالَ : سِتُّونَ سَنَةً ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے پہلے اپنی بات کا انکار سیدنا آدم علیہ السلام نے کیا تھا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، اور یہ فرمایا : کہ جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، تو اُن کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان کی ذریت کو نکال دیا اور ان کی ذریت کو ان کے سامنے پیش کیا ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے ان میں ایک شخص کو دیکھا جو چمک رہا تھا ( یا خوبصورت تھا ) تو دریافت کیا : اے میرے پروردگار ! یہ کون ہے ؟ پروردگار نے بتایا : یہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص داؤد ہے ، سیدنا آدم علیہ السلام نے دریافت کیا : اس کی عمر کتنی ہو گی ؟ پروردگار نے فرمایا : ساٹھ سال ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! اس کی عمر میں اضافہ کر دے ! پروردگار نے فرمایا : جی نہیں ! البتہ اگر تم اپنی عمر میں سے ( کچھ سال ) اس کو دے دیتے ہو ، تو یہ ہو سکتا ہے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنی عمر میں سے ، اُن کی عمر میں چالیس سال زیادہ کروا دیے ، اللہ تعالیٰ نے اس پر تحریر نوٹ کر لی اور اس پر فرشتوں کو گواہ بنا دیا ، جب سیدنا آدم علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا ، تو انہوں نے کہا: میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں ، ان سے کہا: گیا : وہ تو آپ نے اپنے صاحبزادے سیدنا داؤد علیہ السلام کو دیدیے تھے ، تو سیدنا آدم علیہ السلام نے انکار کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر نکلوائی اور اس کے ثبوت نکلوائے ، یوں اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد کی عمر سو سال کی اور سیدنا آدم علیہ السلام کی عمر بھی پورے ایک ہزار سال ہوئی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جب قرض کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” ان کی عمر کتنی تھی ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ساٹھ سال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق مفہوم کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔