حدیث نمبر: 13778
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا سُئِلْتَ : أَيُّ الْأَجَلَيْنِ قَضَى مُوسَى ؟ فَقُلْ : خَيْرَهُمَا وَأَتَمَّهُمَا وَأَبَرَّهُمَا ، وَإِنْ سُئِلْتَ : أَيُّ الْمَرْأَتَيْنِ تَزَوَّجَ ؟ فَقُلِ : الصُّغْرَى مِنْهُمَا وَهِيَ الَّتِي جَاءَتْ فَقَالَتْ : يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ، إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ . قَالَ : مَا رَأَيْتِ مِنْ قُوَّتِهِ ؟ قَالَتْ : أَخَذَ حَجَرًا ثَقِيلًا فَأَلْقَاهُ عَنِ الْبِئْرِ . قَالَ : وَمَا الَّذِي رَأَيْتِ مِنْ أَمَانَتِهِ ؟ قَالَتْ : قَالَ : امْشِي خَلْفِي وَلَا تَمْشِي أَمَامِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عُوَيْدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ فِي سُورَةِ الْقَصَصِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم سے یہ سوال کیا جائے کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے دو قسم کی مدتوں میں سے کون سی پوری کی تھی ؟ تو تم یہ کہو : کہ جو ان دونوں میں زیادہ بہتر تھی اور زیادہ مکمل تھی اور زیادہ نیکی والی تھی ، اور اگر تم سے یہ سوال کیا جائے : کہ دونوں خواتین میں سے کس کے ساتھ انہوں نے شادی کی تھی ؟ تو تم یہ کہو : کہ جو ان دونوں میں سے چھوٹی تھیں ، یہ وہی خاتون ہیں ، جو آئی تھیں اور انہوں نے یہ کہا: تھا : اے ابا جان ! آپ انہیں ملازم رکھ لیں ، کیونکہ یہ بہتر ملازم ثابت ہوں گے ، یہ طاقتور اور امین ہیں ، تو سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا تھا : تم نے اس کی قوت کہاں دیکھی ہے ؟ تو اس خاتون نے بتایا : انہوں نے ایک وزنی پتھر پکڑ کر اسے کنویں سے ہٹا دیا تھا ، سیدنا شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : تم نے اس کی امانت کہاں دیکھی ہے ؟ تو اس نے بتایا : انہوں نے یہ کہا: کہ تم میرے پیچھے چلتی ہوئی آؤ ! تم میرے آگے نہ چلنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عوید بن ابوعمران جونی ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث سورہ قصص سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13778
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف