حدیث نمبر: 13776
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ ; لِمَا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ جَلَّ وَعَزَّ ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَى بِهِ أَنْ قَالَ : يَا مُوسَى ، إِنَّهُ لَمْ يَتَصَنَّعْ لِي الْمُتَصَنِّعُونَ بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا ، وَلَمْ يَتَقَرَّبْ إِلَيَّ الْمُتَقَرِّبُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ ، وَلَمْ يَتَعَبَّدِ الْمُتَعَبِّدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خَشْيَتِي . قَالَ مُوسَى : يَا رَبَّ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا ، وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ ، وَيَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ، مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ ، وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ ؟ قَالَ : أَمَّا الزُّهَّادُ فِي الدُّنْيَا ، فَإِنِّي أَبَحْتَهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ مِنْهَا حَيْثُ شَاءُوا ، وَأَمَّا الْوَرِعُونَ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ ، فَإِنَّهُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ يَبْقَ عَبْدٌ إِلَّا نَاقَشْتُهُ وَحَاسَبْتُهُ إِلَّا الْوَرِعُونَ ، فَإِنِّي أَسَتَحْيِيهِمْ وَأُجِلُّهُمْ وَأُكْرِمُهُمْ ، فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خَشْيَتِي ، فَأُولَئِكَ لَهُمُ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو کلام کیا تھا ، وہ تین دن میں ، ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات پر مشتمل تھا ، جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے انسانوں کا کلام سنا ، تو انہیں اس پر غصہ آیا ، کیونکہ ان کی سماعتوں میں پروردگار کا کلام پہنچ چکا تھا ، پروردگار نے ان کے ساتھ جو کلام کیا تھا ، اُس میں یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : ” میری خاطر کام کرنے والوں نے ، دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے کی مانند کوئی کام نہیں کیا ہو گا ، اور میرا قرب حاصل کرنے والوں نے پرہیزگاری کی طرح کی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کیا ہو گا ، جو ان چیزوں سے پرہیز ہو ، جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہیں ، اور عبادت گزاروں نے میرے خوف کی وجہ سے رونے جیسی کسی چیز کے ذریعے عبادت نہیں کی ہو گی ۔ “ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے تمام مخلوق کے پروردگار ! اے قیامت کے دن مالک ! اے جلال اور اکرام والے ! تو نے ان کے لئے کیا تیار کیا ہے ؟ اور تو انہیں کیا جزا دے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ” جہاں تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والوں کا تعلق ہے ، تو میں نے ان کے لئے جنت کو مباح قرار دے دیا ہے ، وہ اس میں جہاں چاہیں گے رہائش اختیار کریں گے جہاں تک پرہیزگار لوگوں کا تعلق ہے ، جو اُس چیز سے بچتے ہیں جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہے ، تو جب قیامت کا دن ہو گا ، تو ہر بندے سے میں حساب لوں گا ، البتہ پرہیزگار لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ مجھے اُن سے حیاء آئے گی ، میں اُن کی عزت افزائی کروں گا اور میں انہیں حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دوں گا ، جہاں تک میرے خوف کی وجہ سے رونے والے لوگوں کا تعلق ہے ، تو ان لوگوں کے لئے رفیق اعلیٰ ہو گا ، اس بارے میں دوسرے لوگ اُن کے شراکت دار نہیں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جویبر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13776
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12650)»